منیجر الرسالہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰
درمیانی افراد ایک اجتماعی ضرورت ہیں۔ ان کا رول ہر سماج میں نہایت اہم ہے۔ چنانچہ اس قسم کے لوگ ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک میں سفیر بنائے جاتے ہیں۔ اسی قسم کے افراد تجارتی کمپنیوں اور حکومت کے درمیان واسطہ کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح یہ درمیانی افراد بلا شبہ ہمارا بہترین سرمایہ ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کے لئے نہایت مفید خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ایسے افراد مسلمانوں کے درمیان اپنی نیک نامی نہ کھوئیں۔ انھیں مسلمانوں کا بھر پور اعتماد حاصل رہے۔
’’درمیانی افراد‘‘ پر شبہ کرنے کا سبب ہمیشہ ایسی معمولی باتیں ہوتی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ مثلاً انگریزوں کے زمانہ میں کوئی شخص نکٹائی کا استعمال کرتا ہوا نظر آیا تو فورا اس کو تہذیبی مرتد قرار دے کر اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ موجودہ زمانہ میں کسی شخص نے بغیر ٹونٹی کا لوٹا استعمال کیا تو فورا شبہ کر لیا گیا کہ وہ ہندو تہذیب سے متاثر ہے۔ کسی شخص نے کھدر کے کپڑے پہن لئے تو سمجھ لیا گیا کہ وہ کانگریس کا ایجنٹ ہے، وغیرہ۔
اس قسم کی غیر ضروری حساسیت سے مسلمانوں کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔ ان کو اس قسم کی غیر معقول اور غیر متوازن روش کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ورنہ شدید اندیشہ ہے کہ ملی ترقی کا منصوبہ اپنی تکمیل کی منزل تک نہ پہنچے، وہ ہمیشہ کے لئے محض ایک خواب بن کر رہ جائے۔ مطالعہ سیرت الرسالہ ماہ اگست ۱۹۹۴ کا شمارہ انشاء اللہ سیرت نمبر کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ اس کا نام ’’مطالعہ سیرت‘‘ ہوگا۔ اصحابِ ایجنسی مزید مطلوبہ تعداد سے فوری طور پر مطلع فرمائیں۔
منیجر الرسالہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues