The taste of success
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
انھوں نے بتایا کہ یہاں ائیرپورٹ کے احاطہ میں ایک مسجد بھی ہے۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ انھوں نے ہمارا شوق دیکھ کر ہم کو مسجد تک پہنچایا۔ ہم نے کچھ وقت اس مسجد میں گزارا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ لمبائی میں وہ دس قدم ہے اور چوڑائی میں سات قدم۔ میں نے یہاں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے کمزور آدمی کو ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کہ مذہبی تشدد دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔ حتی کہ غیر مسلم حکومت اپنے ہوائی اڈہ کے اندر اپنے مسافروں کی سہولت کے لئے مسجد کی تعمیر کر رہی ہے۔ مسجد میں چند کتابیں تھیں جن میں قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ بھی شامل تھا۔
مسجد میں بہت سے مسافر آتے اور جاتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا معلوم ہوا کہ چھوٹی ہونے کے باوجود وہ مسافروں کے لئے سکون کی ایک جگہ ہے۔ مسجد میں قیام کے دوران ایک سفید فام تندرست آدمی آئے۔ ان کا سر کھلا تھا۔ وہ نیکر پہنے ہوئے تھے جس میں گھٹنوں سے اوپر تک کا حصہ کھلا ہوا تھا۔ اسی حالت میں وہ نیت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔ وہ لبنانی مسلمان ہیں اور امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنا نام حسین مروّۃ (Hussein Mroiueh) بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تاجر ہیں ۔ پانچ وقتہ نماز پڑھتے ہیں۔ گفت گو میں کافی سنجیدہ نظر آئے۔ ائیر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک جگہ سگریٹ کا اشتہار نظر آیا۔ یہ ایک مشہور سگریٹ کا خوبصورت اشتہار تھا۔ سگریٹ کے کھلے پیکٹ کے ساتھ سگریٹ کا نام روشن حرفوں میں درج تھا۔ اس کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
The taste of success
سگریٹ کے نقصانات کو دیکھئے تو یہ برعکس نہند نام زنگی کا فور کا مصداق نظر آئے گا۔ الٹا نام رکھنے کا یہی طریقہ انسانی دنیا میں بھی رائج ہے۔ کہیں تشدد کی تحریک کو پرامن تحریک کہا جاتا ہے۔ کہیں کسی مخرب اعظم کا نام لوگوں نے مفکر اعظم رکھ لیا ہے۔ کہیں ایک استغلالی منصوبہ کو فلاحی منصوبہ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔
۱۶ ستمبر کو بروسیلز سے لندن کے لئے برٹش ایئرویز کی فلائٹ ۳۹۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں برٹش ایئرویز کی میگزین (Highlife) کا شمارہ ستمبر ۱۹۹۲ دیکھا۔ ۷۰ صفحہ کے اس
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues