The taste of success
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴
میگزین میں زیادہ تر رنگین اشتہارات چھپے ہوئے تھے۔ جہاز ، مکان ، فرنیچر، گھڑی، زیور وغیرہ کے اشتہارات۔ اشتہارات میں بار بار اس قسم کے الفاظ درج تھے:
Pleasure, happiness, enjoyment, desire, lovely, delight, charming. میں نے سوچا کہ انسان ایک لذت پسند مخلوق ہے۔ اس کے اندر سب سے زیادہ جس چیز کی طلب ہے وہ خوشی اور لذت کا حصول ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کے الفاظ فیھا ما تشتهیه الانفس وتلذ الاعين (الزخرف ۷۱)، بہت با معنی ہے ۔ انسان کو سماجی حیوان یا سیاسی حیوان یا اقتصادی حیوان کہنا محض سطحی تعبیر ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ انسان ایک ایسا وجود ہے جو اپنی پسندیدہ چیزوں سے ابدی طور پر محظوظ ہونا چاہتا ہے۔ اور اس حظ کا حصول جنت کے سوا کہیں اور ممکن نہیں۔ برو سیلز سے جہاز ۱۳ بجے دن کو روانہ ہوا تھا۔ ۱۹ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک گھنٹہ پرواز کرنے کے بعد جب وہ لندن ایئرپورٹ پر اترا تو دو بارہ لندن کی گھڑیوں میں ۱۲ بج رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لندن کا وقت برو سیلز کے وقت سے ایک گھنٹہ پیچھے ہے ۔ ۱۶ ستمبر کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ضروری کارروائی کے بعد باہر آیا تو دو صاحبان ہمارے انتظار میں وہاں موجود تھے۔ ایک انیس قاری صاحب ، دوسرے، عارف عبد السلام احمد ۔ میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں دعوتی کام کتنا آسان ہو چکا ہے ۔ قدیم زمانہ میں ایک داعی کو اجنبی دنیا میں داخل ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔ آج یہ حال ہے کہ ایک داعی جس ملک میں بھی جائے وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے استقبال کے لئے موجود ہوگی۔ حتی کہ زمانہ کی یہ تبدیلی یہاں تک پہنچی ہے کہ غیر مسلم صاحبان بھی یہ موقع دے رہے ہیں کہ ایک اسلامی داعی ان کے مقام تک پہنچے اور وہ اس کو اپنے اجتماع میں آزادانہ طور پر بولنے کا موقع دیں۔ یہاں میں نے ثانی اثنین خان کو لندن میں چھوڑ دیا۔ اور خود ایئرپورٹ ہی سے برادر عارف عبد السلام احمد کے ساتھ مانچسٹر جانے کا فیصلہ کیا۔ لندن ایئرپورٹ سے ٹرین (انٹرسٹی) کے ذریعہ مانچسٹر کے لئے روانگی ہوئی۔ خوب صورت اور منظم انداز میں بنی ہوئی یہ ٹرین نہایت آرام دہ تھی۔ روانگی کے وقت سے آخر تک کسی سیٹی کی آواز نہیں آئی ۔ کبھی چین پلنگ نہیں ہوئی۔ کسی قسم کا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues