Let us agree to disagree
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۴۰
اس قسم کی غلطی کسی بھی شخص سے ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ صلحا ء سے بھی۔ ایسی غلطی کی نشاندہی کرنا نہ تو کوئی ناممود فعل ہے اور نہ کسی کے بارہ میں ایسی غلطی کا ثابت ہونا اس کی شخصیت کو ختم کرنے کے ہم معنی ہے۔
میری قیام گاہ پر بہت سی عربی کتابیں تھیں، ان میں سے کچھ کتابوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ابن جوزی البغدادی (م ۵۹۷ھ) کی مشہور کتاب تلبيس ابليس کو پڑھتے ہوئے کئی سبق آموز چیزیں نظر آئیں ۔ صفحہ ۲۸۳ - ۲۸۴ پر انھوں نے لکھا ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ اصحاب رسول شام میں تجارت کرتے تھے ، ان میں طلحہ، بن عبید اللہ اور سعید بن زید ہوتے تھے۔ احمد بن حنبل نے تو کل کے نام پر گھر بیٹھ رہنے کے خلاف کہا کہ اصحاب رسول بر اور بحر میں تجارت کرتے تھے۔ وہ کھجور کے باغوں میں کام کرتے تھے اور انھیں کے اندر ہمارے لئے نمونہ ہے (كان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتجرون في البر والبحر ويعملون في نخيلهم ولنا القدوة بهم) :
عن أحمد ان رجلا قال له - أريد امام احمد سے ایک شخص نے کہا کہ میں تو کل کی بنیاد الحج على التوكل فقال له فاخرج في پر حج کرنا چاہتا ہوں ۔ انھوں نے اس سے کہا کہ پھر غير القافلة فقال لا ۔ قال فعلى جراب تم قافلہ کے بغیر نکلو۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ انھوں الناس توكلت نے کہا کہ پھر تم نے لوگوں کے نیچے کیچے پر تو کل کیا ہے۔
ابن جوزی غیر معمولی ذہین اور قابل شخص تھے۔ ان کی تفسیر قرآن (زاد المسیر فی علم التفسیر) نہایت قیمتی ہے۔ جو لوگ قرآن کا گہرا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کو ابن جوزی کی تفسیر قرآن ضرور پڑھنا چاہئے ۔ یہ تفسیر ابھی تک صرف عربی زبان میں ہے۔ میرے علم کے مطابق اس کا ترجمہ ابھی تک کسی اور زبان میں شائع نہیں ہوا۔
۸ستمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ تین عرب نوجوانوں کے ساتھ میں وگن سے مانچسٹر گیا ۔ ہم ایک بلڈنگ کے پاس اترے ۔ معلوم ہوا کہ اس کی چوتھی منزل پر مسجد ہے۔ ہم لوگ ایک قدیم لفٹ میں داخل ہو کر اوپر پہنچے۔ یہاں دوبارہ ایک قدیم طرز کا ہال تھا۔ فرش سے لے کر دیوار تک ہر چیز فرسودہ حالت میں نظر آئی۔ میں نے چل کر دیکھا تو اس کا اندرونی حصہ چوڑائی میں ۲۳ قدم اور لمبائی میں ۳۱ قدم
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues