Al-Risala · January 1994 · page 38

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

نکاح میں منسلک ہو کر ایک خاندان بنائیں تو وہ آخر وقت تک اس کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ اسی لیے رشتہ نکاح کو قرآن میں میثاق غلیظ (النساء، ۲۱) کہا گیا ہے ، یعنی پختہ عہد۔ نکاح زندگی کا ایک عمومی قانون ہے اور طلاق صرف ایک استثناء ہے۔ اسی لیے اسلام میں نکاح کو انتہائی پسندیدہ چیز قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

النکاح من سنتی فمن لم یعمل نکاح میرا طریقہ ہے۔ پس جو شخص میرے طریقہ پر بسنتی فلیس منی (سنن ابن ماجہ ، ابواب النکاح ، عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔ باب ماجاء في فضل النکاح)

طلاق کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ، اسلام میں اگر چہ طلاق کی اجازت ہے مگر اسی کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ اس کو صرف انتہائی ناگزیر حالت میں استعمال کیا جائے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلاق اگرچہ حلال ہے مگر وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض حلال ہے (ابغضُ الحلالِ إلى الله تعالى الطلاق) سنن ابی داؤد ، ابواب الطلاق ، باب فی کراہیۃ الطلاق ۱۔ جب ایک مرد اور ایک عورت شوہر اور بیوی کی حیثیت سے مل کر ساتھ رہتے ہیں تو ، فطرت کے عام قانون کے تحت ، دونوں کے درمیان اختلافات بھی ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک حیاتیاتی اور نفسیاتی حقیقت ہے کہ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر مرد اور پیدا ہونے والی ہر عورت ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے اس دنیا میں اتحاد کی ایک ہی ممکن صورت ہے ۔ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا۔

شکایت کو نظر انداز کرتے ہوئے مل کر رہنے کا یہ مقصد کس طرح حاصل ہو گا ، اس کا راز ، ایک لفظ میں صبر ہے۔ صبر کا مزاج ہی واحد چیز ہے جو دو شخصوں کے درمیان مشترک اور متحد زندگی کو ممکن بناتا ہے۔ جب انسانی فطرت کے تحت شکایت کے اسباب کا پیش آنا لازمی ہو ، اور اسی کے ساتھ عورت اور مرد کی مشترک زندگی بھی ایک لازمی انسانی ضرورت ہو تو عملی طور پر اشتراک اور اتحاد کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی کہ دونوں صبر و

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page