Al-Risala · August 1994 · page 7

دلیل نبوت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۷

یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ طاقت دے (اللہم اید الاسلام بابی الحکم بن ہشام اوبعمربن الخطاب) السیرة النبویہ لابن کثیر ۳۵/۲ تاہم مکہ والوں کے لیے شرک ایک اقتصادی انٹرسٹ کا معاملہ تھا۔ انھوں نے عرب کے ۳۶۰ قبیلوں کے ۳۶۰ بت کعبہ میں رکھ دیے تھے۔ یہ قبیلے سال بھر مکہ آتے تھے۔ ان کی وجہ سے مکہ کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا تھا۔ ان بت پرست قبائل کی مکہ میں آمد ٹھیک اسی طرح تجارتی نوعیت رکھتی تھی جس طرح کسی سیاحتی ملک میں سیاحوں کی آمد تجارتی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاحت کو انڈسٹری سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح مکہ والوں کے لیے شرک ایک انڈسٹری تھی۔ ان کے بیشتر تجارتی مفادات اسی انڈسٹری سے وابستہ تھے۔ اس لیے مکہ میں عمومی سطح پر توحید کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ یہی بات تھی جس کو قرآن کے بیان کے مطابق، اہل مکہ نے اس طرح کہا تھا : اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کر توحید کی اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے (القصص ، ۵۷) ۳-کہ میں جب حصول افراد کا وہ کام مکمل ہو گیا جس کو قرآن میں قطع طرف (آل عمران ، ۱۲۷)کہاگیاہے یعنی ان کے بہتر حصہ کو کاٹ کر نکال لینا ، تو اس کے بعد آپ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ ہجرت کوئی فرار نہیں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جاکر وہاں کے امکانات کو استعمال کیا جائے۔ یہ تاریخی امکانات اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مدینہ میں پوری طرح جمع کر دیے تھے۔

مثلاً مدینہ کے علاقہ میں یہود کے تین قبائل (نضیر ، قریظہ ، قینقاع) کی موجودگی ۔ ۷۰ء میں رومی شہنشاہ تیتس (Titus) نے فلسطین کو فتح کیا۔ اس نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یہودی جلاوطن ہو کر مختلف ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں سے کچھ مدینہ بھی آئے ۔ چند صدیوں میں ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو گئی ۔ ان یہودیوں کے اختلاط سے اہل مدینہ کو ایک آنے والے نجات دہندہ کا تصور ملا جو اچانک آکر قوم کے تمام مسائل کو حل کر دے گا۔

چنانچہ ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ حج کے موسم میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب سے ملنے کے لیے نکلے تو آپ کی ملاقات مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے ہوئی۔ ان کے سامنے آپ نے اسلام پیش کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ انھوں نے آپ کی بات سنی تو آپس میں کہنے لگے :

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page