Al-Risala · August 1994 · page 8

دلیل نبوت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۸

یا قوم ، تعلمو والله انـه للنبـی الـذی لوگو سمجھ لو۔ خدا کی قسم ،ضروریہ وہی نبی ہے جس کا ذکر توعدکم به یهود فلا تسبقنکم تم سے یہودی کیا کرتے تھے۔ دیکھو، کہیں وہ اس اليه فـاجـابـوه فيمـا دعـاهـم الـيـه ۔ کی جانب تم پر سبقت نہ لے جائیں۔ پس جس چیز (سيرة النبی لابن ہشام ۳۸/۲) کی دعوت آپ نے انہیں دی اس کو انھوں نے قبول کر لیا۔

یہی معاملہ خود مدینہ کے عربوں کے سلسلہ میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ ہجرت سے چند سال پہلے ۶۱۸ میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج میں خون ریز جنگ ہوئی۔ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ انھیں ایک قومی قائد کی شدید ضرورت ہے۔ یہی بات ہے جس کو حضرت عائشہ نے اس طرح فرمایا : كان يوم بعاث یوماقدمہ الله بعاث کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اللہ نے اپنے رسول لرسوله صلى الله عليه وسلم فقدم رسول الله کی خاطرتمہیدکے طورپربرپاکیا۔ چنانچہ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم و قد افـتـرق مـلاهم علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ وقتلت سرواتهم وجـرحـوا فـقـدمـه الله ان کے سربر آوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہو گئے تھے۔ لرسوله صلى الله عليه وسلم في دخولهم چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا في الاسلام - (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۲۷/۷) کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخولِ اسلام میں معاون بنا۔ یہی بات انسائیکلوپیڈیابرٹانیکاکے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو ۶۱۸ میں ہوئی ۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہوسکاتھا۔ محمد ۔ محمد کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انھیں ایک عیسائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہو گا جو انھیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انھیں انصاف مل سکے : Much blood had been shed in a battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their contact with the Jews may have prepared them for a messianic religious leader, who would deliver them from oppression and establish a kingdom in which justice prevaild. (12/607)

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page