طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹
اعراض کو زندگی کے ایک مستقل اصول کے طور پر اختیار کر لیں۔
کسی بھی سماج میں طلاق کے جو واقعات ہوتے ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فی صد طلاق کے واقعات کا سبب "زبان درازی" ہے۔ کسی بات پر عورت یا مرد کو غصہ آگیا یا کوئی بات اس کو ناگوار معلوم ہوئی۔ اس کے بعد اس کی زبان سے سخت الفاظ نکل گئے۔ دوسرا فریق اس کو نظر انداز نہ کر سکا، اس نے بھی جواب میں سخت جملہ کہہ دیا۔ اب تلخ تکرار کی نوبت آ گئی۔ اس تلخی کے زیر اثر مرد نے کہہ دیا کہ تم کو طلاق۔ یا عورت نے کہہ دیا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ طلاق یا علیحدگی کا سبب زیادہ تر اسی قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں مومن مرد اور مومن عورت کی صفات بتاتے ہوئے ایک صفت والصاایسین والصابرات (الاحزاب (۳۵) کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، مرد کو بھی صبر کی روش اختیار کرنا ہے اور عورت کو بھی صبر کے طریقہ پر قائم رہنا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کرنا ہے۔ اگر وہ صبر و برداشت کی روش اختیار نہ کریں تو ان کا باہمی رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ اور باہمی رشتہ ٹوٹنے کے بعد دونوں کو اس سے زیادہ بڑی بات برداشت کرنی پڑے گی جو رشتہ کو باقی رکھنے کی صورت میں انہیں برداشت کرنے کی ضرورت تھی۔
زوجین کو صبر و برداشت کی عام تلقین کے علاوہ اس سلسلہ میں بعض خصوصی ہدایتیں بھی احادیث میں دی گئی ہیں جو نکاح کے بندھن میں پائیداری کے لیے ضروری ہیں۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يفرك مؤمن مؤمنة إن کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ كره منها خلقاً رضى منها آخر۔ کرے ۔ اگر اس کی کوئی عادت اس کو بری لگے صحیح مسلم، كتاب الرضاع ، باب الوصية بالنساء) تو اس میں دوسری عادت ہوگی جو اس کو خوش کر دے۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی کے اندر کچھ اچھی باتیں ہوتی ہیں اور اسی کے ساتھ کچھ بری باتیں ہوتی ہیں جن کو اس کی کمزوری کہا جا سکتا ہے۔ یہی معاملہ شوہر اور بیوی کا بھی ہے۔ ایسی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues