طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۰
حالت میں دونوں کے درمیان نباہ کا فطری اصول یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی شخصیت کے اچھے پہلو کو یاد رکھیں، اور دونوں ایک دوسرے کے کمزور پہلو کو نظر انداز کرتے رہیں ۔ اگر عورت اور مرد اس معاملہ میں باشعور ہو جائیں اور اس کو ایک اصول کے طور پر اپنی زندگی میں اختیار کر لیں تو یقیناً وہ ان کے لیے پائیدار ازدواجی زندگی کی ضمانت بن جائے گا ۔
۲۔ تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مذکورہ تدبیر کافی نہیں ہوتی۔ شوہر اور بیوی کے درمیان ایسی شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو بظاہر اس سے زیادہ سخت ہوتی ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ اس قسم کی صورت پیش آنے کے بعد بھی یہ صحیح نہیں ہے کہ جہاں ایسا ہو فوراً طلاق دے کر علاحدگی اختیار کر لی جائے ۔ اس کے بجائے تحمل سے کام لیتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں ہم کو حسب ذیل آیت میں رہ نمائی دی گئی ہے :
وَ الَّتِی تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ اور جن عورتوں سے تم کو نافرمانی کا اندیشہ ہو وَاهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِع ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے بستروں میں وَ اضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَاتَبْغُوا تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو ۔ پس اگر وہ تمہاری عَلَيْهِنَّ سَبِیلًا (النساء ۳۴) اطاعت کریں تو ان کے خلاف الزام کی راه تلاش نہ کرو۔
کسی مرد کو اگر اپنی بیوی سے شکایت پیدا ہو تو اس کے لیے پہلا کام طلاق دینا نہیں ہے، بلکہ عورت کو نصیحت کرنا ہے۔ یعنی نرمی، سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ اس کو سمجھایا جائے ۔ نفرت کے جواب میں نفرت نہ کی جائے بلکہ نفرت کے جواب میں محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔
اگر نصیحت بے اثر رہ جائے تو اس کے بعد شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ ترک کلام یا ترک صحبت کا تجربہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس میں بھی انتقام کا جذبہ ہر گز شامل نہیں ہونا چاہیے ۔ اس کو مکمل طور پر اصلاح اور تربیت کے ذہن کے تحت انجام دینا چاہیے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues