Al-Risala · August 1994 · page 25

حديبیہ منہاج

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵

موجودہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے فخر کانشان بنالیا ہے۔ اور فخر کے جذبہ کی تسکین اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ کو سپر یملی سکس فل کہا جائے ۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو اسوہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے نہ کہ فخر کے طور پر ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة (الاحزاب ۲۱) مگر موجودہ مسلمانوں نے اپنی تشریح میں اس کو بدل کر لقد كان لكم فى رسول الله مفخرة حسنة بنادیا ہے۔

قرآن کی تعلیم کے مطابق ، ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سپر یم سکس کاراز کیا تھا ۔ کیوں کہ اس راز کو جان کر ہی ہم دوبارہ اسلام کو اعلیٰ کامیابی کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔

اس سوال کو لے کر جب ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے قرآن کی وہ سورہ آتی ہے جس کا نام الفتح ہے ۔ اس سورہ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی ( انا فتحنا لك فتحا مبینا ) ، ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپر یم سکس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپر یم سکس کس طرح حاصل ہوئی ۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی ۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ ہی کے بارہ میں اتری تھی ۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کا راز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا ۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔

حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے ۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انھوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا ۔ بلکہ وہ تمام فتحوں میں سب سے بڑی فتح ہے (قال رجل عند مُنْصَرَفِهم - ما هذا بفتح - لقد صدونا عن البيت - فقال النبی صلی الله عليه وسلم : بل ھواعظم الفتوح ) الجامع لا احکام القرآن ۲۶۰/۱۶

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page