Al-Risala · August 1994 · page 26

حديبیہ منہاج

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۶

البرا ابن عازب صحابی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ (اصحاب رسول ) حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے۔ ابن شہاب زہری تابعی نے کہا کہ اسلام میں صلح حدیبیہ کو فتح اعظم کا درجہ حاصل ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ۳۲۴٫۳)

یہ جو کچھ کہا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو جو عظیم کامیابی ملی، اس کا راز صلح حدیبیہ تھا۔ اسلام کا قافلہ حدیبیہ سے گزر کر فتح اعظم کے درجہ کو پہنچا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اہل اسلام کے لئے فتح اعظم یا سپریم سکس کے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ حدیبیہ منہاج کو اختیار کریں۔

اب غور کیجئے کہ حدیبیہ منہاج کیا ہے۔ یہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اصحاب رسول جیسے فن کاروں کا گروہ بھی اس معاملہ میں وقتی طور پر متزلزل ہو گیا اور نہایت دشواریوں کے ساتھ اس امتحان میں پورااترسکا۔

اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کے محاذ آئے جس میں انھیں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول کسی سستی اور تذبذب کے بغیر اس میدان میں کود پڑے ۔ انھوں نے خون بہا کر اپنی جاں بازی اور قربانی کا ثبوت دیا۔ دوسری طرف تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ کر لیا اور عمرہ کئے بغیر مدینہ کی طرف واپس جانے پر راضی ہوگئے تو ایک ابو بکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دبائو کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔

یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر و احد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر و احد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہو گیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر و احد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page