Al-Risala · August 1994 · page 27

حديبیہ منہاج

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷

جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل جان کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن وقار کی قربانی اتنی زیادہ مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں چند اللہ کے بندوں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا جو واقعی رضامندی کے ساتھ وقار کی قربانی دینے پر آمادہ ہو جائے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی قربانی میں آدمی ہیرو بن رہا ہوتا ہے جب کہ وقار کی قربانی میں وہ اچانک زیر و بن جاتا ہے۔ جان کی قربانی میں وہ اپنے آپ کو فتح کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے اوروقارکی قربانی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے خود اپنے فیصلے سے شکست کو قبول کر لیا۔ جان کی قربانی بظاہر ایک عزت کا عمل ہے اوروقار کی قربانی اس کے برعکس بے عزتی کا عمل۔ جان کی قربانی میں آگے بڑھناہوتاہے اوروقار کی قربانی میں پیچھے ہٹ جانا۔ جان کی قربانی میں استدام کا سہرا بندھتا ہے اور وتار کی قربانی میں پسپائی کا الزام سہنا پڑتا ہے ـــــ یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی چھوٹی قربانی ہے اور وتار کی قربانی زیادہ بڑی قربانی۔

یہ ایک معلوم بات ہے کہ جتنی بڑی قربانی اتنی ہی بڑی کامیابی۔ سب سے بڑی کامیابی کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ سب سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہو۔ رسول اور اصحاب رسول نے چوں کہ حدیبیہ کے موقع پر سب سے بڑی قربانی دی اسی لئے وہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔

حدیبیہ منہاج میں وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ فتح مبین کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس کا سراغ اس واقعہ میں ملتا ہے کہ ذوالقعدہ ۶ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ کا سفر فرمایا، اس وقت آپ کے ساتھ جو مردان کار تھے، ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی۔ مگر اس کے دو سال سے بھی کم عرصہ بعد رمضان ۸ھ میں جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ مردان کار کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ پہلے سفر میں اہل مکہ نے آپ کو حدیبیہ کے مقام سے لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسرے سفر میں آپ کے عظیم قافلہ کو دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کے بغیر انہوں نے شکست قبول کر لی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیبیہ منہاج انسانی تسخیر کا منہاج ہے۔ حربی منہاج میں انسانوں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page