Al-Risala · January 1994 · page 41

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱

اگر بالفرض کوئی عورت ایسی ہے جس کی لیے نصیحت اور ترک تعلق کی تدبیریں غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں تو اس کے بعد اجازت ہے کہ مرد اس کو ہلکی سزا دے سکتا ہے۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ضرب (مارنے) کی اجازت صرف اختلاف شکایت پر ہرگز نہیں ہے۔ یہ نشوز پر ہے۔ نشوز کی تشریح حدیث میں معروف میں نافرمانی سے کی گئی ہے (اضربوهن اذا عصينكم في المعروف) نیز یہ کہ اس ضرب کو بے تکلیف لی مار (ضرباً غير مبرح) ہونا چاہیے ۔ بے تکلیف کی مار کیا ہے، اس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ مسواک (ٹوتھ برش) یا اس جیسی کسی چیز سے مارنا ( (بالسواک ونحوه) جامع البیان للطبری ۶۷/۵ - ۶۹ ۲- زوجین میں اختلاف ظاہر ہو تو کوشش یہ ہونا چاہیے کہ دونوں آپس ہی میں صلح کرلیں، کیونکہ صلح کا طریقہ اللہ کے نزدیک ہر حال میں بہتر ہے (والصلح خير، النساء (۱۲۸) اور اگر گھریلو سطح پر معاملہ ختم نہ ہوتب بھی طلاق کی بات نہیں کرنا ہے بلکہ ثالثی کے طریقہ پر اس کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے : وإِن خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا اور اگر تم کو دونوں کے درمیان تعلقات بگڑنے حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے رشتہ داروں أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ میں سے کھڑا کرو اور ایک ثالث عورت کے اللَّهُ بَيْنَهُمَا - إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح (النساء ۳۵) چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا باخبر ہے۔

دو شخصوں کے نزاع کو ثالث (arbiter) کے ذریعہ طے کرنے کا یہ اصول نہایت فطری اصول ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان جب اختلاف پیدا ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کے بارہ میں متاثر ذہن کے تحت سوچنے لگتے ہیں۔ وہ حقائق کی بنیاد پر بے لاگ رائے نہیں قائم کر پاتے ۔ ایسی حالت میں جھگڑے کو ختم کرنے کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرے فریق کو درمیان میں لایا جائے ۔ یہ تیسرا فریق معاملے سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے منصفانہ فیصلہ تک پہنچ جائے گا جو دونوں کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page