طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۲
قابل قبول ہو۔
جب معاملہ کو ثالث کے سپرد کر دیا جائے تو اس وقت عورت اور مرد کو کس ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا چاہیے ، اس کا اندازہ خلافتِ راشدہ کے زمانہ کے ایک واقعہ سے ہوتا ہے ۔
خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی جھگڑا ہوا۔ دونوں حضرت علی کے پاس آئے ۔ آپ نے مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق یہ حکم دیا کہ دونوں کے خاندان سے ایک ایک شخص کو لے کر ثالثی بورڈ بنایا جائے۔ یہ ثالثی بورڈ دونوں کے حالات معلوم کرنے جو فیصلہ دے اس کو دونوں بلا جچت مان لیں۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں :
فقالت المرأة رضيت بكتاب الله عورت نے کہا کہ میں راضی ہوں اللہ کی کتاب لي وعلى ـ فقال الرجل ا ما الفرقة پر خواہ فیصلہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔ فلا ـ فقال علی کذبت ، واللہ لا تبرح مرد نے کہا کہ مگر تفریق کا فیصلہ مجھے منظور نہیں۔ حتى ترضی بمثل ما رضیت بہ حضرت علی نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ خدا کی ( جامع البیان للطبری ، ۷۱/۵) قسم تم یہاں سے اٹھ نہیں سکتے جب تک تم اس طرح راضی نہ ہو جاؤ جس طرح عورت راضی ہوئی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سچے مومن کے اندر یہ آمادگی ہونا چاہیے کہ وہ قرآنی حکم کے مطابق ، ثالث کو مانے اور یہ بھی آمادگی ہونا چاہیے کہ ثالث جو فیصلہ دے اس کو وہ مزید بحث کے بغیر قبول کرلے ۔
۴- تا ہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کا نظام ہمیشہ مقرر انداز پر نہیں چلتا ۔ چنانچہ سارے تحفظات کے باوجود ایسا ہوتا ہے کہ کچھ شادی شدہ جوڑے کے بعد شادی کے بعد علیحدگی پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ ان کے اندر نکاح کے بعد طلاق کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے ۔ یہاں شریعت ان کی رہ نمائی اس طرح کرتی ہے کہ ان کے لیے طلاق کا ایک متعین ضابطہ مقرر کرد
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues