Al-Risala · January 1994 · page 43

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳

ہے۔ یہ ضابطہ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :

الطلاق مرتان فإمساك بمعروف طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق او تسريح باحسان (البقره ۲۲۹) رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کیساتھ رخصت کر دینا۔ اس آیت کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ جو شخص (دو مہینے میں) دو بار طلاق دیدے تو وہ تیسری بار طلاق دینے میں اللہ سے ڈرے ۔ یا تو وہ اس کے حق میں کوئی بھی ظلم کیے بغیر اس کو چھوڑ دے ، یا اس کو حسن معاشرت کے ساتھ روک لے (اى من طلّق اثنتين فليتق الله في الثالثة فإما تركها غير مظلومة شيئا من حقها وإما مسكها محسنا عشرتها) الجامع لاحكام القرآن للقرطبی اس آیت اور دوسری آیات و احادیث کی روشنی میں علماء شریعت نے طلاق کا تفصیلی قانون مرتب کیا ہے ، اس سلسلہ میں فقہی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے بنیادی شرعی پوزیشن یہ ہے کہ اپنے مراحل کے اعتبار سے طلاق کی تین صورتیں ہیں طلاق رجعی، طلاق بائن ، طلاق مغلظہ۔

جب ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ اچانک اس کو مطلقہ قرار دے کر اسے اپنے سے جدا کر دے۔ بلکہ اس کو یہ کرنا چاہیے کہ پہلے مہینہ میں حیض سے پاک ہونے کے بعد وہ اپنی عورت سے کہے کہ میں نے تم کو ایک طلاق دیا۔ اس کے بعد دونوں ایک مہینہ تک سوچتے رہیں۔ اس درمیان میں اگر رائے بدل گئی تو مرد اپنے قول طلاق کو واپس لے کر دوبارہ اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اگلے مہینہ میں دوبارہ طہر کی حالت میں وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں نے تم کو دوسری بار طلاق دیا۔ اس اثناء میں دوبارہ مرد کے لیے یہ موقع ہے کہ اگر اس کی رائے بدل جائے تو وہ طلاق کو واپس لے کر اپنی بیوی سے دوبارہ تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ اصطلاح میں ان دونوں کو طلاق رجعی کہا جاتا ہے ، کیوں کہ مرد کو ان سے مراجعت کا حق حاصل ہے۔ ابتدائی دو مہینوں میں مرد اگر اپنے قول سے رجوع نہ کرے اور تیسرا حیض آکر تیسرا مہینہ شروع ہو جائے تو اب عملی طور پر طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس کو طلاق بائن کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page