طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴
طلاق بائن پڑ جانے کے بعد مراجعت کے لیے تنہا مرد کا قول کافی نہیں۔ اب صرف عورت اور مرد کی باہمی رضامندی سے نکاح ثانی ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں نے نکاح ثانی کر لیا تو دوبارہ وہ شوہر اور بیوی کی طرح ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی تیسرے مہینے میں یا اس کے بعد یہ کہہ دے کہ میں نے تم کو تیسری بار طلاق دیا۔ ایسا کہنے کے بعد آخری طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس کو طلاق مغلظ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہو جائیں گے۔ البتہ اگر حلالہ کی صورت پیدا ہو جائے تو دوبارہ ان کے درمیان نکاح ہو سکتا ہے۔
شوہر اگر دوسری بار طلاق دینے کے بعد اپنی بیوی سے مراجعت کا ارادہ نہ رکھتا ہو تب بھی اسے چاہیے کہ عورت کو اس کے حقوق دے کر خوش اسلوبی کے ساتھ اسے رخصت کر دے۔ جہاں تک تیسری بار طلاق کا تعلق ہے تو شریعت نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ کیونکہ دو بار طلاق دے کر علیحدہ ہو جانے کے بعد بھی یہ امکان باقی رہتا ہے کہ شوہر تجدید نکاح کے ذریعہ پھر اپنی سابقہ بیوی سے تعلق قائم کرلے۔ مگر تیسری بار طلاق دینے کے بعد مذکورہ استثنائی صورت (حلالہ) کے علاوہ اس مرد اور اس عورت کے درمیان نکاح مستقل طور پر حرام ہو جاتا ہے۔
مذکورہ مقرر طریقہ نے طلاق کو ایک جذباتی اقدام کے بجائے ایک سوچا سمجھا منصوبہ بند عمل بنا دیا۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ طلاق اکثر حالات میں غصہ کا نتیجہ ہوتا ہے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ طریقہ طلاق کے خلاف ایک زبردست روک (check) ہے۔ کیونکہ غصہ کوئی مستقل باقی رہنے والی چیز نہیں۔ ایک مدت گزرنے کے بعد لازما وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ تقریبا یقینی ہے کہ جو لوگ غصہ کی بنا پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کریں گے، وقت گزرنے کے بعد وہ خود ہی اپنے کیے پر پچھتائیں گے۔ اور رجوع کر لیں گے۔ کیوں کہ طلاق کوئی سادہ بات نہیں۔ اکثر حالات میں وہ گھر کو اجاڑنے اور بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ غصہ ٹھنڈا ہوتے ہی آدمی کو طلاق کا برا انجام دکھائی دے گا اور وہ رجوع کر کے اس سے باز رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues