ترقی کے آداب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱
بنانے کے بجائے لوز انداز میں بنانے لگے۔ وہاں زلزلہ اب بھی آتا ہے۔ مگر اب یہ ہوتا ہے کہ زلزلہ کے جھٹکے کے وقت مکانات صرف ہل کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ٹوٹ کر گرتے نہیں۔ اس طرح انسانوں کے مرنے کی نوبت نہیں آتی۔ کیوں کہ انسان چھتوں اورملبوں کے نیچے دب کر مر جاتے تھے نہ کہ محض جھٹکے سے۔
یہی معاملہ خود انسانوں کا بھی ہے۔ ہر آدمی اپنے سینہ کے اندر ایک خطر ناک زلزلہ چھپائے ہوئے ہے۔ یہ غصہ اور انتقام کا زلزلہ ہے۔ ایک آدمی کو جب دوسرے آدمی سے کوئی ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک شخص کو جب دوسرے شخص سے کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اس کے سینہ میں انتقام کا زلزلہ آ جاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے گھر اور دکان میں آگ لگا دیتا ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے نقصان کے درپے ہو جاتا ہے۔
یہ گویا سماجی زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ بھی فطرت کا ایک مظہر ہے۔ ہم اس کے وجود کو مٹانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہاں بھی ہم یہی کر سکتے ہیں کہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا لیں۔ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے آپ کو اس کی زد میں نہ آنے دیں۔ اس سماجی زلزلہ کے مقابلہ میں حکیمانہ تدبیر کیا ہے۔ ایک لفظ میں، وہ اعراض ہے۔ یعنی ٹکراؤ کے مواقع کو اوائڈ کرنا۔ آپ کو کوئی برا کہے تو اس کا اثر نہ لیجئے۔ کسی کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز کلمہ آپ کے کان میں پڑے تو اس کو سنی ان سنی کر دیجئے۔ کوئی آپ کے کپڑے کے اوپر کیچڑ ڈال دے تو کیچڑ ڈالنے والے سے الجھنے کے بجائے پانی کے نل کے پاس جائیے اور اس کو دھو دیجئے۔ راستہ چلتے ہوئے کوئی شخص آپ کے اوپر کنکری پھینک دے تو اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائیے۔ غرض ناخوشگوار باتوں کو بھلا کر اعتدال کے ساتھ اپنا سفر حیات جاری رکھئے ۔ زمینی زلزلے کبھی بند نہیں ہوں گے۔ زمینی زلزلوں کے سلسلہ میں صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ان کے نقصان سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ اسی طرح انسانی یا سماجی زلزلے بھی کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ یہاں بھی جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ کہ ہم اعراض اوربرداشت کی تدبیر کو استعمال کر کے اپنے آپ کو ان کی زد میں نہ آنے دیں۔ اپنے آپ کو ان کے نقصانات سے محفوظ رکھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues