اسلام دور جدید میں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶
کرنا نہیں ہوگا بلکہ وہ اسلام کے حکم کا از سر نو انطباق ہوگا۔ اس قسم کی مثالوں سے اسلام میں نظر ثانی کے نظریہ کو ثابت کرنا درست نہیں۔
عورت کے بارے میں اسلام کا جو حکم ہے اس کو اکثر اس سلسلہ میں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ قدیم حالات کے زیر اثر اسلام میں عورت کا سماجی رتبہ کم کیا گیا تھا۔ اب نئے حالات میں ضرورت ہے کہ اسلام کی اس غلطی کو درست کیا جائے۔ مگر یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی کا کیس ہے۔ اس موضوع پر میں نے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جو خاتون اسلام کے نام سے چھپ چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ عورت کے بارے میں اسلام کا جو حکم ہے اس کا تعلق ایک عملی ضرورت سے ہے نہ کہ ایک جنس کو برتر اور دوسری جنس کو کم تر قرار دینے سے۔ اس معاملہ میں جدت پسند حضرات کا نقطہ نظر مختصر طور پر equal so equal ہے جبکہ اسلام کا اصول اس معاملہ میں یہ ہے کہ : equal but different اس معاملہ میں اسلام کی پوزیشن یہ ہے کہ جہاں تک عزت اور احترام کا سوال ہے، اس اعتبار سے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں۔ حقوق کے معاملہ میں بھی دونوں کے درمیان برابری کا اصول قائم کیا گیا ہے۔ تاہم عملی زندگی میں دونوں کا مقام عمل (workplace) بنیادی طور پر الگ الگ ہے۔ عورت کا مقام عمل بنیادی طور پر داخل (indoor) ہے اور مرد کا مقام عمل بنیادی طور پر خارج (outdoor) ہے۔
دونوں کے درمیان یہ تقسیم یقینی طور پر افضل اور غیر افضل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ حیاتیاتی فرق کی بنا پر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت پیدائشی طور پر نازک جنس ہے۔ اور مرد پیدائشی طور پر سخت جنس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے زندگی کے عملی انتظام میں دونوں کے لئے وہ کام دیا گیا ہے جو ان کی پیدائشی ساخت کے مطابق ہو۔ اس قسم کی تقسیم ایک عمومی عملی ضرورت ہے اور وہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ حتی کہ وہ عورت اور عورت اور اسی طرح مرد اور مرد کے درمیان بھی اسی شخصی فرق کی بنا پر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس لئے اسلام میں زندگی کا عملی انتظام مقرر کرتے ہوئے دونوں کے لئے وہ کام دیا گیا ہے جو ان کی پیدائشی ساخت کے مطابق ہو۔ اس تقسیم کا تعلق ہرگز قدامت پسندی سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues