Al-Risala · September 1994 · page 17

اسلام دور جدید میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷

نہیں ہے۔ وہ صرف فطرت کا اعتراف ہے۔ فطرت نے پیدائشی طور پر عورت اور مرد میں فرق رکھا ہے۔ یہ فطری فرق اتنا حتمی ہے کہ جن سماجوں میں اس تقسیم کو نظری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے وہاں بھی فطرت کے دباؤ کے تحت عملاً یہی تقسیم قائم ہے۔

مثلاً مغربی ملکوں میں عورت کو کامل آزادی دینے کے باوجود مذکورہ تقسیم کو ختم نہ کیا جا سکا۔ آج بھی وہاں کے تمام بڑے بڑے خارجی شعبوں میں مرد ہی کا غلبہ ہے عورت کو نسبتہً صرف ہلکے شعبوں میں جگہ ملی ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عورت اپنی پیدائشی ساخت کی بنا پر کمپیوٹر کے نازک کی بورڈ پر تو انگلیاں چلا سکتی تھی مگر عورت کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ کمپیوٹر فیکٹری میں بھاری بھرکم اور مشقت والے کام کو بخوبی طور پر انجام دے سکے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں اور کچھ آیتیں متشابہ ہیں۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ مطلب نکالا ہے کہ قرآن کی بہت سی تعلیمات تمثیل اور استعارہ کی زبان میں ہیں اور ان کو حقیقی مفہوم دینے کے لئے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً چور کا ہاتھ کاٹ دو“ کے قرآنی حکم کا مطلب ان کے نزدیک لفظی طور پر ہاتھ کاٹنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک مجازی اسلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو چوری کرنے سے روک دو۔

محکم اور متشابہ کے الفاظ سے یہ استدلال درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کی آیتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی آیتوں کا تعلق معلوم دنیا سے ہے اور دوسری قسم کی آیتوں کا تعلق غیبی دنیا سے۔

محکم آیتیں معلوم دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ چور کی سزا کا تعلق بھی اسی دنیا سے ہے۔ چنانچہ ایسی آیتوں میں قرآن براہ راست زبان میں کلام کرتا ہے۔

متشابہ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق غیبی دنیا سے ہے۔ یہاں قرآن نے تمثیل کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ کیوں کہ ایسے امور کو براہ راست اسلوب میں بیان کرنا ممکن نہ تھا۔ مثلاً خدا کا ہاتھ کا لفظ جہاں آتا ہے وہ لفظی معنوں میں نہیں ہے۔ اس سے مراد ہاتھ والی صفت ہے۔ یعنی پکڑ کی طاقت۔

اسلام دراصل فطرت کا نظام ہے۔ فطرت کے جو اصول ساری کائنات میں ابدی طور

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page