Al-Risala · January 1994 · page 45

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵

آدمی جب ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کے لیے صرف ایک بار یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں نے تم کو اپنی زوجیت میں قبول کیا۔ مگر طلاق کے لیے شریعت میں یہ حکم دیا گیا کہ تین مہینے کے دوران مرحلہ وار طریقہ پر بتدریج اس کو مکمل کرو۔

گویا نکاح کے لیے تو ایک قول کافی ہے مگر طلاق کے عمل کی تکمیل کے لیے کئی قول کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ نکاح کے برعکس، طلاق کے ایک قول اور دوسرے قول کے درمیان شریعت نے لمبا وقفہ (gap) دینا پسند کیا ہے۔ اس وقفہ کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ اس دوران شوہر اپنے فیصلہ پر اچھی طرح غور کرلے۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے اس کے بارہ میں بخوبی مشورہ کرے ۔ حتی کہ اس کے متعلقین کو یہ موقع بھی مل جائے کہ جب انھیں طلاق کے معاملہ کی خبر ملے تو اس میں دخل دے کر وہ طرفین کو سمجھائیں اور طلاق کو روکنے کی کوشش کریں۔ یہ مقصد وقفہ کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے طلاق کو ایک باوقفہ عمل بنا دیا گیا۔ ان ساری پیش بندیوں کا واضح مطلب یہ ہے کہ جذباتی ابال کو ٹھنڈا کیا جائے اور اس طرح طلاق کے معاملہ کو اس کے آخری انجام تک پہنچنے سے روکا جائے۔ کیوں کہ طلاق کسی بھی شخص کے لیے مسئلہ سے نجات کے ہم معنی نہیں ہے۔ طلاق اپنے انجام کے اعتبار سے صرف یہ ہے کہ آدمی ایک مسئلہ سے چھٹکارا حاصل کر کے اپنے آپ کو دوسرے شدید تر مسئلہ میں مبتلا کر لے۔ ۵- ان ساری پیش بندیوں کے باوجود کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بعض اوقات جہالت یا شدید غصہ کی وجہ سے معتدل انداز میں سوچ نہیں پاتا۔ وہ جوش میں آکر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی سے کہہ دیتا ہے کہ تم کو تین طلاق یا طلاق ، طلاق ، طلاق۔ ایسے واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئے ۔ اور اب بھی پیش آتے ہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص ایسا کرے اس کے بارہ میں کیا فیصلہ کیا جائے۔ یعنی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دے کر مذکورہ با وقفہ عمل جاری کرنے کی تلقین کی جائے ۔ یا تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر میاں بیوی کے درمیان علیٰحدگی کرا دی جائے ۔ اس سلسلہ کی ایک رہ نما حدیث یہاں درج کی جاتی ہے جس کو امام ابوداؤد اور دوسرے کئی محدثین نے نقل کیا ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page