اسلام دور جدید میں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸
پر چل رہے ہیں انھیں اصولوں کو انسانی زندگی میں چپاں کرنے کا نام اسلام ہے۔ جس طرح عالم فطرت کے اصول ابدی ہیں اسی طرح اسلام کے اصول بھی ابدی ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں نظر ثانی کی بات کرنا اتنا ہی غیر متعلق (irrelevant) ہے جتنا کہ قانون فطرت میں نظر ثانی کا مطالبہ کرنا۔ ایک شبہ دوسرے مذاہب کے لوگ نہایت آسانی سے ریفارم کے لیے راضی ہوجاتے ہیں، جب کہ اسلام کے علماء ہمیشہ ریفارم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ رائے قائم کرلی ہے کہ اسلام ایک جامد مذہب ہے۔ اس لیے وہ اپنے اندر ریفارم کی اجازت نہیں دیتا۔ اصل یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ اور غیر محرف مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب تبدیلیوں کے نتیجہ میں محرف ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کسی ریفارم کا محتاج نہیں، جب کہ دوسرے مذاہب کا معاملہ یہ ہے کہ ریفارم ان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر بعض مذاہب میں غیر شادی شدہ زندگی کو افضل زندگی بتایا جاتا ہے۔ یہ اصل مذہب میں تحریف ہے۔ اب چونکہ اس تحریف نے ان مذاہب کی نکاح کے بارہ میں تعلیم کو غیر فطری بنا دیا ہے، اس لیے جب ان مذاہب میں ریفارم کی بات کہی جائے تو لوگ فوراً اس کو پسند کرتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کا مذہب ایک غیر فطری اور غیر عقلی تعلیم سے پاک ہو جائے گا۔
مگر اسلام میں اس طرح کی غیر فطری تعلیم موجود نہیں۔ اسلام چونکہ محفوظ مذہب ہے، اس لیے اس طرح کے اضافات بھی اس میں شامل نہ ہو سکے۔ اس معاملہ میں اسلام اور غیر اسلام کا فرق محفوظ اور غیر محفوظ ہونے کی بنا پر ہے نہ کہ جامد اور غیر جامد ہونے کی بنا پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues