Al-Risala · September 1994 · page 19

نیا ہندوستان ابھر رہا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹

نیا ہندوستان ابھر رہا ہے

بیسویں صدی خاتمہ پر ملک کے حالات دوبارہ وہیں پہنچ گئے ہیں جہاں وہ بیسویں صدی کے آغاز میں تھے۔ ان ابتدائی حالات کو استعمال کرکے مہاتما گاندھی نے انڈیا کو پر امن آزادی کا تحفہ دیا۔ اب اگر کچھ با ہمت لوگ کھڑے ہو جائیں تو دوبارہ وہ حالات پوری طرح موجود ہو چکے ہیں جن کو استعمال کرکے کے ملک میں نیا مثبت انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انقلاب وہی ہے جس کے لئے ہم سب لوگ یہ پچھلے پچاس سال سے انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی ایک ترقی یافتہ اور خوش حال انڈیا کی تعمیر۔

موجودہ صدی کے آغاز میں انڈیا میں آزادی کی تحریک زوروں پر چل رہی تھی۔ اس تحریک کا ایک بازو وہ تھا جس کی قیادت مسلم علماء کر رہے تھے اور دوسرا بازو وہ تھا جس کے قائد مسٹر سبھاش چندر بوس تھے۔ تاہم دونوں میں ایک بات مشترک تھی۔ دونوں ہی فوجی طاقت میں اپنے مقاصد کی تکمیل کار انداز دیکھ رہے تھے۔ اس فرق کے ساتھ کہ علماء اپنے اس متشددانہ خواب کو ترکی اور افغانستان کی مدد سے پورا کرنا چاہتے تھے اور سبھاش چندر بوس اس متشددانہ خواب کو جاپان اور جرمنی کی مدد سے۔

تاہم نتائج بتارہے تھے کہ برٹش ایمپائرکی غیرمعمولی فوجی طاقت کے مقابلہ میں دونوں ہی غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ یہی تاریخی وقت ہے جب کہ ۱۹۱۹میں مہاتماگاندھی ہندستان کے سیاسی نقشہ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ مہاتما گاندھی کا خاص کریڈٹ یہ ہے کہ دوسرے لوگ جس وقت حالات کو صرف اس کی سطح کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے، مہاتما گاندھی نے سطح کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو دیکھا اور ان کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔ مہاتما گاندھی نے اپنے یورپ اور افریقہ کے قیام کے زمانہ میں جدید سیاسی افکار کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے یہ جانا کہ دورِ جدید میں ایک نئی طاقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی انسانی تاریخ میں موجود نہ تھی۔ اور وہ ہے نیشنلزم کا نظریہ۔ موجودہ زمانہ میں خود مغرب کے سیاسی افکار کے نتیجہ میں یہ بات مسلمہ طور پر مان لی گئی تھی کہ ہر قوم کو حکومت خود اختیاری ۱۹ ال رسالتمبر ۱۹۹۴

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page