Al-Risala · September 1994 · page 20

نیا ہندوستان ابھر رہا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰

کا غیر مشروط حق حاصل ہے۔ مہاتما گاندھی نے اس نئی لہر کو سمجھا اور ہندوستان اگر اس کو استعمال کیا۔

مہاتما گاندھی نے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد اعلان کیا کہ کانگریس کے لئے انھیں ایک کروڑ روپیہ کا فنڈ اکٹھا کرنا ہے۔ اس کے لئے دو مہینہ تک وہ پورے ملک کا دورہ کریں گے، اس وقت بمبئی میں کپاس کے ایک بڑے تاجر عبد الصمد چھوٹانی تھے ۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایک کروڑ روپیہ کے لئے دو مہینہ تک سارے انڈیا میں گھومنا چاہتے ہیں۔ میں آپ کو آج ہی ایک کروڑ روپیہ یہیں دے دیتا ہوں۔ مہاتما گاندھی نے سیٹھ چھوٹانی کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا: مجھے ہندوستانی عوام سے ملنا ہے۔ ایک کروڑ کا فنڈ جمع کرنا تو محض ایک بہانہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ مہاتما گاندھی ہندوستانی عوام کو آزادی کے نام پر موبیلائز کرنا چاہتے تھے۔ وہ پورے ملک میں نیشنلزم کا احساس ابھارنا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے لئے انھوں نے، ظاہری اختلاف کے باوجود ، خلافت تحریک سے اتحاد کر لیا تھا۔ مہاتما گاندھی کی مہم کامیاب رہی ۔ پورا ہندوستان ایک نیشن کے روپ میں جاگ اٹھا جس کا آخری نتیجہ وہ تھا جو ۱۵ اگست، ۱۹۴۷ کو برآمد ہوا۔

مہاتما گاندھی کی پرامن نیشنل تحریک سے پہلے یہ صورت حال تھی کہ ایک طرف ہندوستانی لیڈروں کے ہتھیار تھے اور دوسری طرف برٹش امپائر کے ہتھیار۔ اس مقابلہ میں برٹش امپائر کو واضح برتری حاصل تھی۔ چنانچہ وہ ہر ٹکراؤ میں کامیاب رہے۔ مگر مہاتما گاندھی نے نیشنلزم کا جذبہ بیدار کر کے یہ کیا کہ چند لاکھ انگریزوں کے مقابلہ میں انھوں نے کروڑوں ہندوستانیوں کو کھڑا کر دیا۔ پچھلے مقابلہ میں اگر انگریزوں کو برتری حاصل تھی تو اب نئے مقابلہ میں ہندوستانیوں کو واضح برتری حاصل ہو گئی۔ اس نئی طاقت کے مقابلہ میں انگریز بے بس ہو گیا۔ آخر کار وہ مجبور ہوگیا کہ ہندوستان کو چھوڑ کر یہاں سے چلا جائے۔ یہی معاملہ ایک نئی صورت میں آج دوبارہ پورے ملک میں پیدا ہو گیا ہے۔ ہم ایک دور کو ختم کرکے دوسرے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ اس کو نہ سمجھنے کی وجہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page