نیا ہندوستان ابھر رہا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱
سے ابھی تک پرانی بولیاں بول رہے ہیں۔ کیوں کہ پچھلے دورکاملبہ اگرسطح کے اوپر ہے تو نئے دور کے امکانات سطح کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔ آج دوبارہ دھیانی نگاہ کی ضرورت ہے جو اوپری سطح سے گزر کر اندر کی لہروں کو دیکھے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔ نئے دوراورپرانے دورمیں۶دسمبر۱۹۹۲کوحدِّفاصل کی حیثیت حاصل ہے۔ ۶ دسمبر سے پہلے ہندوستان کے دو بڑے فرقے، ہندو اور مسلمان، ٹکراؤ کے راستے پر چل رہے تھے۔ آخری زمانہ میں پہنچ کر اس ٹکراؤ کی علامت اجودھیابن گیا۔ ہندو کی نظر میں رام مندر پر اٹک گئیں اور ہر طرف یہ نعرہ سنائی دینے لگا کہ "مندر وہیں بنائیں گے۔ " دوسری طرف مسلمانوں نے بعض نام نہاد قائدین کی غیر دانش مندانہ رہنمائی کے نتیجہ میں ایودھیا کی بابری مسجد کو ملت کے وقار حتیٰ کہ خود اسلام کی زندگی اور موت کی علامت سمجھ لیا۔ دونوں طرف سے دھواں دھار تحریک چل پڑی۔ ایک طرف اگر رتھ یاترا کی دھوم تھی تو دوسری طرف ریلی اور مارچ کی دھوم۔ ان دو طرفہ تحریکوں نے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں کیا بلکہ ان کے حق میں کسی کا یہ قول مکمل طور پر صحیح ثابت ہوا کہ جلسہ اور جلوس کے ہنگامے گرمی زیادہ پیدا کرتے ہیں اور روشنی کم۔
جیسا کہ معلوم ہے، اس سیاست کا آخری انجام یہ ہوا کہ ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو کچھ بچھڑے ہوئے ہندوؤں کے ہاتھوں ڈھادی گئی۔ مزید یہ کہ قدیم عمارت کا ملبہ مکمل طور پر وہاں سے ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ ایک عارضی مندر تعمیر کر دیا گیا جس میں مورتیاں رکھ کر باقاعدہ پوجا پاٹ کا عمل جاری ہے۔
۶ دسمبر کو جب انہدام کا یہ واقعہ ہوا تو بہت سے لوگوں نے اس کو آغاز سمجھا۔ ان کو اندیشہ ہوا کہ اب ہندوستان میں تخریب کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ایسا پیش نہیں آیا۔ راقم الحروف نے ۶ دسمبر کے حادثہ کے بعد یہ فارمولا پیش کیا تھا کہ اب دونوں فرقوں کو ایسا کرنا چاہئے کہ ایک طرف مسلمان بابری مسجد کے معاملہ پر اپنا ایجی ٹیشن ختم کر دیں۔ اور دوسری طرف ہندو اس کے علاوہ دوسری مسجدوں کے معاملہ کو ہمیشہ کے لئے بھلا دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues