نیا ہندوستان ابھر رہا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲
عملی حالات کے اعتبار سے دیکھئے تو آج بطور واقعہ یہی صورتِ حال قائم ہو چکی ہے۔ ایک طرف مسلم عوام بابری مسجد کے معاملہ پر خاموش ہیں۔ دوسری طرف ہندو عوام اب کسی اور مسجد کے معاملہ کو عملاً بُھلا چکے ہیں۔ حتیٰ کہ جو پارٹی "مسجد گراؤ مندر بناؤ" کی تحریک لیکر اُٹھی تھی خود اس نے اعلان کر دیا ہے کہ اب اس نے مندر۔ مسجد اشو کو چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ سوشل ریفارم پر اپنی ساری توجہ صرف کرے گی۔
اب موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ اگرچہ دونوں طرف کے کچھ نا کام لیڈر اپنے وجود کا ثبوت کے لئے کبھی کبھی اخبار میں بیان چھپواتے ہیں یا کسی سرکاری عمارت کے سامنے چند آدمی دھرنا دے کر ظاہر کرے ہیں کہ مندر۔ مسجد کا اشو ابھی زندہ ہے۔ مگر یہ واقعہ واضح طور پر ان کے دعوے کی تردید کر رہا ہے کہ دونوں فرقوں کے لیڈروں میں سے کوئی بھی کوشش کے باوجود اس میں کامیاب نہ ہو سکا کہ وہ ہندوعوام یامسلم عوام کو دوبارہ اس مذہبی اشو پر کھڑا کر سکے۔ یا انھیں سڑکوں پر لاسکے۔
حقیقت یہ ہے کہ تخریب کی ایک حد ہے۔ اس دنیا میں ہر تخریب اپنی انتہا پر جاکر ختم ہو جاتی ہے۔ اس دنیا میں جو چیز مسلسل باقی رہنے والی ہے وہ صرف تعمیر ہے نہ کہ تخریب۔ ۶ دسمبر کے بعد فطرت کا یہ قانون ہمارے ملک میں پوری طرح ظاہر ہو چکا ہے۔ اب دونوں فرقوں کے عوام نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ ان کے حقیقی مسائل دوسرے ہیں۔ اور "تصحیح تاریخ" کے نام سے مسجد۔ مندر کا جھگڑا اُٹھانا ان حقیقی مسائل کو صرف بڑھانا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں ان کو حل نہیں کرتا۔
یہ حقیقی مسائل کیا ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ ملک میں امن ہو۔ ہر ایک کو انصاف ملے۔ ہر ایک کو اپنی تعمیر کے لئے محنت کرنے کے کُھلے مواقع حاصل ہوں۔ ملک اقتصادی شعبوں میں ترقی کرتے تاکہ ہم دنیا کی دوسری قوموں کی طرح ایک ترقی یافتہ قوم کا درجہ حاصل کر سکیں۔ قدیم حالات کے ملبہ کے نیچے یہ نئے حالات آج پوری طرح موجود ہو چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ سطح کی چیزوں سے نگاہ کو ہٹا کر اندر کے امکانات کو دیکھا جائے ۔ اور انھیں بھر پور طور پر استعمال کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues