Al-Risala · September 1994 · page 24

لفظ اور معنی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴

لفظ اور معنی

قدیم عرب میں بہت سے بت تھے۔ ایک بڑے بت کا نام ”منات“ تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عرب کا منات اور ہندوستان کا سومنات دونوں ایک ہی دیوتا کے دو نام ہیں۔ حالانکہ صوتی مناسبت کے سوا اس نظریہ کے حق میں کوئی تاریخی دلیل موجود نہیں۔ اسی طرح بعض عرب سیاح جب ہندوستان آئے اور انھوں نے یہاں ”برھما“ کا لفظ سنا تو انھوں نے یہ خیال قائم کر لیا کہ برھما اور ابراہیم دونوں کی اصل ایک ہے، اور ہندوستان کے برہمن ”ابراہیم“ کی اولاد ہیں۔ علامہ شہرستانی نے اپنی کتاب الملل والنحل میں اس مسئلہ پر کلام ہے اور لکھا ہے کہ یہ محض ایک خیالی بات ہے، اس کے حق میں تاریخی شواہد موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کا تعلق علم سے یا علمی استدلال سے نہیں یہ شاعری کی اس صنف کو تاریخ میں استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کو ”مناسبت لفظی“ کہا جاتا ہے۔ مناسبت لفظی کا یہ طریقہ صرف لطیفہ گو لوگوں کے یہاں رائج نہیں۔ بہت سے لوگ حقیقی معاملات میں بھی اس طریقہ کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کوئی شخص ایک مذہبی نظریہ گھڑتا ہے اور اس کے حق میں اس قسم کی لفظی دلیل دے کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی بات کو آخری طور پر ثابت کر دیا ہے۔ کوئی شخص ایک سیاسی پروگرام بناتا ہے اور اس پر پوری ایک قوم کو دوڑا دیتا ہے۔ حالاں کہ اس سیاسی پروگرام کے حق میں ایک لفظی نکتہ کے سوا کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہوتی۔

الفاظ کے مجموعہ سے معنویت کا خزانہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اس قسم کی تحریکوں اور اس قسم کے ہنگاموں کا کوئی حقیقی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اور نہ اب تک ان کا کوئی نتیجہ نکلا ہے۔ یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ لفظی نکتوں اور معنوی حقیقتوں میں فرق کرے ۔ وہ لفظی نکتوں کی بنیاد پر کوئی پروگرام نہ بنائے۔ بلکہ حقائق کی بنیاد پر غوروفکرکے بعداپناپروگرام ترتیب دے۔ حقیقی کلام وہ ہے جو مناسبت معنوی پر مبنی ہو نہ کہ مناسبت لفظی پر۔ سچا عمل وہ ہے جو حقائق کی بنیاد پر انجام دیا جائے نہ کہ تخیلات کی بنیاد پر۔

۲۴ الرس، ستمبر ۱۹۶۳

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page