سفر نامه - ۳
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵
سفر نامه - ۳
یہ اللہ کا شکر ہے کہ اس قسم کے سیکڑوں عرب نوجوان مختلف عرب ملکوں میں پیدا ہو چکے ہیں جو الرساله مشن سے شیفتگی کی حد تک تعلق رکھتے ہیں۔ الرساله مشن اردو میں جاری ہوا۔ اس کا لٹریچر زیادہ تر اردو زبان میں ہے۔ یہ عرب نوجوان اردو سے مکمل طور پر نا واقف ہیں، اس کے باوجود انھوں نے الرساله مشن کو جتنا زیادہ سمجھا ہے اور جتنا اس کو پایا ہے، اس کی مثال اردو داں لوگوں میں بھی مشکل سے ملے گی ۔
ان عرب نوجوانوں میں ایک قابل لحاظ تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف کر دی ہیں۔ اور مختلف ملکوں میں خاموشی کے ساتھ اس مشن کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اس قسم کا ایک بڑا حلقہ تارہ میں ہے۔ وہ لوگ الرساله کے منتخب مضامین کا عربی میں ترجمہ کرواتے ہیں اور اس کو پمفلٹ کی صورت میں چھاپ کر عربوں کے درمیان پھیلا رہے ہیں۔ انگلینڈ میں مقیم عرب نوجوان یہی کام انگریزی کتابچوں کی صورت میں کر رہے ہیں۔ اسی طرح اور کئی ملک میں یہ کام خالص مثبت انداز میں جاری ہے۔
العارف عبد السلام احمد (۳۳ سال)، ایک عرب نوجوان ہیں۔ ان کی تعلیم برطانیہ (Red Car, Middlesborough) میں ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۲ اگست ۱۹۹۲ کو وہ لیسٹر میں تھے ۔ وہاں مشہور مصری عالم ڈاکٹر محمد صلاح الصاوی ایک مؤتمر میں اپنا مقالہ پیش کرنے کے لئے آئے تھے۔ وہاں ایک پاکستانی نوجوان ان سے بحث کرنے لگا کہ اسلام کی حاکمیت قائم کرنا امت پر فرض ہے اور یہی امت مسلمہ کا نصب العین ہے۔ ڈاکٹر رصاوی نے کہا : الحاکمية ليست بآية ولا حديث ولكنها اجتهاد بشر عرضة للخطأ حاکمیت کا لفظ نہ آیت ہے اور نہ حدیث۔ بلکہ وہ ایک انسان کا اجتہاد ہے جو غلطی کا شکار ہو سکتا ہے )
وگرنہ مجھے ڈاکٹر صلاح الصاوی کی کتاب قضیة تطبيق الشريعة في العالم الاسلامی ملی۔ اس کے باب را بع کا عنوان ہے: اجماع الامة على كفر من أبى التحاكم الى الكتاب و السنة ۔ اس باب میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا ایک اقتباس ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: بل أن العلمانى الذى يرفض مبدأ تحكيم الشريعة من الاساس ليس له من الاسلام الاسم - وهو مرتد عن الاسلام بيقين. يجب ان يستتاب وتنزاح عنه
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues