Al-Risala · September 1994 · page 36

سفر نامه - ۳

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶

احکام المرتدین المفارقین فی الحیاة وبعد الوفاة (صفحه ۴۶)

علمانی (سیکولر) کا مذکورہ حکم اس وقت ہے جب کہ علمانیت(سیکولرزم)کوایک (سیکولرزم) کو ایک اعتقادی چیز مانا نہ جائے ۔ مگر سیکولرزم اصلاً ایک عملی تدبیر ہے۔ سیکولرزم کا عمومی مطلب یہ ہے کہ کثیر مذہبی سماج میں ریاست اس بات کی پابندی قبول کرلے کہ وہ مذہبی امور میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرے گی ۔ گویا سیکولرزم صرف ایک سیاسی مسلک ہے نہ کہ کوئی مذہبی عقیدہ ۔ ۱۹ ستمبر کو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں جس مکان میں ٹھہر اتھا، اس کے پیچھے ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ کسی نے اس کا شیشہ توڑ دیا ہے۔ میں نے جاکر دیکھا تو ڈرائیور کی سیٹ کے پاس والا کھڑکی کا شیشہ مکمل طور پر ٹوٹ گیا تھا اور اس کے ٹکڑے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں بے روزگار لڑکے اکثر اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ لڑکے عام طور پر شراب اور ڈرگ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جب ان کے پاس اپنی بری عادتوں کو پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تو وہ چوری کرتے ہیں۔ مذکورہ گاڑی کا شیشہ کسی لڑکے نے اس لئے توڑا تھا کہ وہ اس کے اندر لگے ہوئے ٹیپ ریکارڈر کو نکال لے اور پھر اس کو بیچ کر کچھ رقم حاصل کرے ۔

جدید مغربی زندگی میں جہاں بہت سی مادی اور اخلاقی خوبیاں ہیں، ان میں بعض ایسی برائیاں پائی جاتی ہیں جن کا مشاہدہ مشرقی ملکوں میں نہیں ہوتا ۔ یہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ جگہ جگہ مکانوں کے سامنے برائے فروخت (for sale) کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس وقت برطانیہ میں اقتصادی گراوٹ (recession) کا دور ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اپنے مکانوں کی قسط بینکوں کو ادا کرنے میں اپنے کو عاجز پا رہے ہیں۔ اس لئے انھوں نے اپنے مکانوں کو اپنے بینکوں کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ کسی اور گاہک کو تلاش کرکے مکان ان کے حوالے کر سکیں۔ واضح ہو کہ یہاں مکانات عام طور پر بینکوں کے قرض کی بنیاد پر خریدے جاتے ہیں۔ ایک انگریز سے گفت گو کے دوران میں نے پوچھا کہ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page