طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶
عن عبد اللہ بن عباس قال ، طلق رکانہ ابن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک رکانہ بن عبد یزید امرأتہ مجلس میں تین طلاق دے دی۔ پھر وہ اس پر ثلاثاً فى مجلس واحد ـ فحزن عليها بہت غمگین ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حزناً شديداً ۔ فسأله النبي صلى الله نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس طرح طلاق دی۔ عليه وسلم ۔ كيف طلقتها ۔ قال ثلاثاً انھوں نے کہا کہ ایک مجلس میں تین بار ۔ رسول اللہ فى مجلس واحد ـ فقال النبي صلى الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سب ایک عليه وسلم ـ إنما تلك واحدة فارتجعها ہی ہے۔ اگر تم چاہو تو اپنی بیوی سے مراجعت إن شئت (فتح الباري ٢٤٥/١) کرلو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دینے کا اعلان کر دیتا ہے تو اگر چہ یہ شریعت کے مقرر طریقہ سے انحراف ہے اور اس اعتبار سے وہ آدمی گنہگار ہے، تاہم انسانی کمزوری کی رعایت کرتے ہوئے اس کے اس فعل کو ایک لغو فعل قرار دیا جائے گا۔ اس کو تا کید بیان یا شدت اظہار پر محمول کرتے ہوئے تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیا جائے گا۔ ایسے آدمی سے کہا جائے گا کہ ایک شرعی مسئلہ میں تم نے جو زیادتی کی ہے اس کے لیے اللہ سے توبہ کرو اور تین کو ایک شمار کرتے ہوئے حسب منشا اپنی بیوی کے ساتھ معاملہ کرو۔
٦۔ تاہم اس مسئلہ میں دور اول میں ایک مختلف مثال ملتی ہے۔ یہ مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے۔ یہ مثال امام مسلم کی ایک روایت میں اس طرح بیان ہوئی ہے : عن ابن عباس ، قال كان الطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور على عهد رسول الله صلى الله عليه ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں اور عمر وسلم والبخيكر وسئتين من کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین خلافة عمر طلاق الثلاث طلاق ایک ہی طلاق ہوتی تھی۔ پھر عمر بن واحدة - فقال عمر بن الخطاب خطاب نے کہا کہ لوگ اُس معاملہ میں جلد بازی ان الناس قد استعجلوا في امر کر رہے ہیں جس میں ان کے لیے مہلت تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues