Al-Risala · September 1994 · page 33

Do you feel you are enjoying mental peace.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳

میں آیا۔

مذکورہ مسیحی نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا کہ یہ عمارت پہلے ایک عبادت خانہ تھی۔ اس لئے اس کا سب سے بہتر استعمال یہ ہے کہ اس کو دوبارہ عبادت خانہ بنایا جائے۔ اس لئے میں اس کو کم قیمت کے باوجود مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہوں۔ کیوں کہ انھوں نے بتایا کہ وہ اس کو عبادت خانہ بنانا چاہتے ہیں۔

۲۲ ستمبر کو ایک برطانی نومسلم سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پچھلے سال اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے ان سے تعلیم کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یہاں میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اسی دور ان انھیں اسلام سے واقفیت ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے تعلیم چھوڑ دی اور اسلام میں سرگرم ہو گئے۔

میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اسلام کی دریافت نے آپ کے اندر ایک نیا جوش پیدا کیا اور اسلام کو سیکھنے کا جذبہ آپ کے اندر ابھر آیا۔ مگر یہ کام آپ کو ساتھ ساتھ کرنا چاہئے۔ یعنی تعلیم اور تربیت دونوں کی طرف توجہ دینا چاہئے۔ آپ ایک طرف کالج اور یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کریں اور اسی کے ساتھ مساجد اور اسلامی مراکز سے وابستہ ہو کر اسلامی تربیت اور اسلامی معلومات حاصل کریں۔ آپ ابھی ابتدائی عمر میں ہیں۔ آپ کو اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔ آپ کو اپنے سامنے دونشانہ رکھناچاہئے نہ کہ صرف ایک نشانہ۔

اس گفتگو کے وقت ایک عرب نوجوان ریاض عبد السلام احمد (۲۸ سال) موجود تھے۔ وہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ انھوں نے میری رائے سے اتفاق کیا۔ انھوں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عربوں میں ایک مثل ہے کہ ایک پتھر سے دوگوریا کا شکار کرو یضرب عصفورین بحجر واحد۔ میں نے کہا کہ یہ نہایت صحیح مثل ہے اور آپ لوگوں کو اسی پر عمل کرنا چاہئے۔ یعنی تعلیم اور تربیت دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے، نہ یہ کہ تعلیم کو چھوڑ کر آپ صرف تربیت کے لئے دوڑنا شروع کر دیں۔

اس وقت مجلس میں کئی عرب نوجوان تھے۔ میں نے معاملہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے : و اعد و الھم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخیل

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page