طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۷
بد كانت لہم فیہ اسنأء فلو پس کیوں نہ اس کو ہم ان کے اوپر نافذ کردیں ۔ امضيناه عليهم فامضاء عليهم چنانچہ انھوں نے ان کے اوپر اسے نافذ (صحیح مسلم بشرح النووی، ۷۰/۱۰) کردیا۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کا یہ عمل بظاہر قرآن و سنت کے طریقہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ شریعت کے عموم میں ایک وقتی استثنا کی مثال ہے نہ کہ شریعت کے عموم میں ترمیم کی مثال۔ خلیفہ دوم کے اس عمل سے شریعت کا مذکورہ مسئلہ نہیں بدلا۔ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی میں حالات کی مکمل رعایت رکھی گئی ہے۔ شریعت کا ہر قانون ایک دائمی قانون ہے۔ مگر مسلمانوں کے حاکم کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی فرد کے کیس کی مخصوص نوعیت کی بنا پر اس کے حق میں ایک استثنائی فیصلہ کرے۔ تاہم حاکم کا یہ فیصلہ صرف ایک وقتی حکم ہوگا نہ کہ ابدی قانون۔
اس سلسلہ کی مختلف روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ دوم نے اپنے زمانہ کے جن چند افراد کیساتھ ایسا کیا وہ بطور شرعی مسئلہ نہیں تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک قسم کے انتظامی حکم (executive order) کی تھی۔ انھوں نے حاکم کی حیثیت سے بعض متعین افراد کے لیے بطور سزایہ حکم جاری کیا تھا۔
چنانچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق ﷺ کے پاس ایسا کوئی آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاق دی تھی تو اس کو وہ اس کی سرکشی قرار دیتے اور اس کی پیٹھ پر کوڑامارتے (عن انس، ان عمر كان اذا أتى برجل طلق امرأته ثلاثا ا وجع ظهره) فتح الباری ۲۷۵/۹ ۷- یہاں ایک اور پہلو کا اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس اضافہ کے بغیر یہ بات بالکل ادھوری رہے گی۔ وہ یہ کہ حضرت عمر نے جب تین طلاق کو تین طلاق قرار دینے کا مذکورہ استثنائی فیصلہ دیا تو ان کی حیثیت موجودہ زمانہ کے ایک بے اختیار عالم جیسی نہ تھی۔ بلکہ وہ مکمل طور پر ایک با اختیار حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ مسلماً طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ جو مرد اس قسم کا غیر قرآنی طریقہ اختیار کرے اس کو وہ سزا دیں، اس کو اور کوئی زیادتی کرنے سے روک سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues