Al-Risala · January 1994 · page 48

طلاق اسلام میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۸

دوسری طرف وہ اس با اختیار حیثیت میں تھے کہ اس حکم کے نفاذ کے نتیجہ میں جو عورتہ نئے مسائل حیات سے دوچار ہوئی ہے، اس کی بھی کامل تلافی کر سکیں ۔ مثلاً سماج کے اندر اس کے لیے با عزت زندگی کی ضمانت، طلاق کے بعد اگر وہ معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہوگئی ہے تو سرکاری بیت المال سے اس کے لیے مستقل گزارہ جاری کرنا، وغیرہ۔ آج اگر کوئی شخص تین طلاق کو نافذ کرنے کے لیے حضرت عمر فاروق کی نظیر پیش کرے تو اس سے پہلے اس کو خلیفہ جیسی با اختیار حیثیت کا مالک بننا چاہیے، اس کے بعد ہی اس کو یہ حق ہوگا کہ وہ خلیفہ دوم کے اس مسلک کا حوالہ دے یا اس پر عمل کرے۔ کیوں کہ حضرت عمر کا مذکورہ فیصلہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حاکم وقت کا ایک فیصلہ تھا نہ کہ سادہ طور پر صرف عالم یا مفتی کا ایک فیصلہ۔

۸۔ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب اپنا مذکورہ فیصلہ دیا تو بعض روایت کے مطابق صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف کیا۔ بقیہ صحابہ جو اس وقت مدینہ میں موجود تھے یا جن کے علم میں یہ بات آئی ، انھوں نے اس سے اختلاف کا اظہار نہیں کیا۔ اس سے کچھ علماء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس مسئلہ پر صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے۔ محمد علی الصابونی لکھتے ہیں :

واستدلوا باجماع الصحابة حين اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ اس قضى به عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پر صحابہ کا اجماع ہے۔ کیوں کہ جب حضرت عمر فاقروه ولم ينكر احد من نے یہ فیصلہ دیا تو صحابہ نے اس سے اتفاق کیا الصحابة وقوع الثلاث بلفظ اور صحابہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں واحد على عمر بن الخطاب کیا کہ ایک بار میں تین طلاق دینے سے طلاق فدل ذلك على الاجماع واقع ہو جاتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوتا ( روائع البيان ۳۳۴/۱) ہے کہ اس پر اجماع ہے۔

یہاں یہ سوال ہے کہ صحابہ نے کس چیز پر اتفاق کیا تھا۔ صحابہ نے اس پر اتفاق نہیں کیا تھا کہ تین طلاق کو تین طلاق قرار دینا اصولاً درست ہے۔ بلکہ ان کا اتفاق اس پر تھا کہ ایسا کرنا نظاماً درست ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page