Al-Risala · October 1994 · page 13

انتہا پسندی کا نتیجہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳

دو میں سے ایک راہ باقی رہ گئی۔ یا تو اقتدار وقت سے ٹکرائیں اور اپنی کمزوری کی بنا پر یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو ہلاک کریں یا مذکورہ عقیدہ کو ذہن میں بدستور باقی رکھتے ہوئے خارجی رویہ کے اعتبار سے منافق ہو جائیں۔ یعنی جس نظام کو وہ باطل اور حرام سمجھتے ہیں اس سے محض ذاتی مفاد کی خاطر مصالحت کر لیں۔

نیز ایسے انتہا پسند لوگ ہمیشہ بہت کم ہوتے ہیں جو جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ہلاکت کے راستہ پر ڈالیں۔ چنانچہ تھوڑے سے سر پھرے قسم کے افراد نے ہر جگہ اپنے آپ کو ہلاکت خیز ٹکراؤ کے راستہ پر ڈال رکھا ہے۔ مگر ان کے سوا لوگوں کی اکثریت نے منافقانہ رویہ کو ترجیح دی ہے۔ وہ ہر ملک میں یہ کر رہے ہیں کہ اپنے ذہن میں یا نجی ملاقاتوں میں تومروجہ نظام اقتدار کو باطل بتاتے ہیں مگر خارجی دنیا میں اسی باطل نظام کے ساتھ مکمل مصالحت کئے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر انھیں عزت اور راحت کی زندگی نہیں مل سکتی۔

ہندوستان میں بھی ایک اعتبار سے یہی صورت حال قائم ہے۔ مسلم لیگی قائدین نے نہایت بے معنی طور پر ہند و مسلم نفرت کا مزاج پیدا کیا۔ بعد کو جو مسلم لیڈران کے جانشین ہوئے انھوں نے بھی صرف اس مزاج کو پختہ کرنے میں مدد کی۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان دو طرفہ مشکل میں مبتلا ہیں۔ ایک بہت محدود تعداد خفیہ یا علانیہ طور پر ہندوؤں سے بے نتیجہ ٹکر اؤ میں مشغول ہے۔ کیوں کہ اس نے اس ٹکراؤ کو بزعم خود جہاد سمجھ رکھا ہے۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کی بیشتر تعداد وہ ہے جو ظاہری طور پر ہندوؤں سے مل جل کر رہنا پسند کرتی ہے۔ ان کا ذہن تو وہی ہے جو پہلے گروہ کا ہے لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندو اکثریت سے نفرت اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس ملک میں راحت اور عافیت کی زندگی نہیں بنا سکتے۔ اس لئے خالص مصلحت کی بنا پر، نہ کہ اصول کی بنا پر انھوں نے ہند و اکثریت سے ظاہری میل ملاپ کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ یہ ایک خود عائد کردہ ذہنی عذاب ہے جس کو بہت سے لوگوں نے اپنے اوپر لاد رکھا ہے، خدا در رسول کے دین سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page