Al-Risala · October 1994 · page 42

قانون کافی نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۲

قانون کافی نہیں

پچاس سال پہلے ہندوستان میں جو دستور بنایا گیا، اس میں دوسری بہت سی باتوں کے ساتھ ایک دفعہ اس مضمون کی بھی شامل کی گئی تھی کہ __ ہندوستان کے ہر شہری کا یہ فرض ہوگا کہ وہ قدرتی ماحول بشمول جنگل، جھیل، دریا اور جنگلی جانوروں کی حفاظت کرے اور انھیں ترقی دے، اور زندہ حیوانات کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کرے:

Constitution of India, Article 51-A;

It shall be the duty of every citizen of India to protect and improve the natural environment including forests, lakes, rivers and wildlife, and to have compassion for living creatures. یہ دفعہ ہندوستان کے بہترین دماغوں نے تحریر کی اور اس کو ہندوستان کے اعلیٰ ترین دماغوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ اس کے باوجود اس دفعہ پر ایک فی صد بھی عمل نہ ہوسکا۔ ہندوستان کے جنگل نہایت بے دردی کے ساتھ کاٹے جا رہے ہیں۔ ماحول میں ہر طرف کثافت کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اپنے محدود مفاد کے لئے جانوروں کو بری طرح مار ڈالا جاتا ہے۔ اس دفعہ کی خلاف ورزی کی آخری حد یہ ہے کہ، ۱۹۷۲ میں ہندوستان کے جنگلوں میں تقریباً چار ہزار شیر پائے جاتے تھے۔ آج ہندوستان میں صرف تین سو شیر رہ گئے ہیں جن کی بیشتر تعداد سندر بن (مغربی بنگال) میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی انسانی سماج میں کوئی اصلاح پیدا کرنے کے لئے قانون کا حصہ ہمیشہ بہت کم ہوتا ہے۔ انسانی سماج میں تبدیلی خود انسانوں کے اندر تبدیلی لانے سے آتی ہے نہ کہ کاغذ کے صفحہ پر یہ لفظ یا وہ لفظ لکھ دینے سے۔

انسانی سماج میں کوئی حقیقی تبدیلی ہمیشہ ذہنی انقلاب کے ذریعہ آتی ہے۔ اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک فرد کی سوچ کو بدلا جائے۔ ایک ایک فرد کے اندر مطلوب آمادگی پیدا کی جائے۔ ایک ایک فرد کے اندر اصلاحی اور تعمیری مزاج بنایا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک دیر طلب کام ہے۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے، اس کے سوا کسی اور ذریعے سے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page