غیر ضروری ٹکراؤ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳
غیر ضروری ٹکراؤ
مسٹر البرٹ ہورانی (Albert Hourani) مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی مشہور کتاب ہے جس کا نام ہے ـــــ عرب قوموں کی ایک تاریخ :
A History of the Arab Peoples
اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ عرب ملکوں کے لئے بہترین سیاسی پالیسی سیکولرزم ہے۔ ان کے الفاظ میں، مذہب اور سیاسی زندگی کی علیحدگی موجودہ دنیا میں کامیاب قومی زندگی کی واحد شرط ہے: The separation of religion from political life seemed to be a condition of successful national life in the modern world. موجودہ زمانہ میں روشن خیال طبقہ کا یہ کہنا ہے کہ مذہب کو نجی دائرہ میں محدود رہنا چاہئے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی پر امن سماج کی تعمیر کے لئے لازمی شرط ہے۔ اس کے جواب میں موجودہ زمانہ کے اسلام پسند شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں لازم اور ملزوم ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
یہ غیر ضروری بحث ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگ صرف دو باتوں کے درمیان سوچ پاتے ہیں۔ یا مذہب مع سیاست یا مذہب بغیر سیاست۔ اسی لئے وہ ایک دوسرے کو اپنا مخالف سمجھ کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہاں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے۔ اور وہ تدریج سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی رائج الوقت نظام عملی طور پر مذہب کو جس دائرہ میں کام کا موقع دے رہا ہو اس دائرہ کو بلا بحث قبول کر لینا اور اس کو نقطہ آغاز نہ سمجھ کر اپنا کام فکری انداز میں شروع کر دینا۔
اس نزاع کا آسان حل یہ ہے کہ جس چیز کو سیکولر طبقہ اصولی تقسیم کے طور پر پیش کر رہا ہے اس کو اسلامی طبقہ عملی تقسیم کے طور پر مان لے۔ اس عملی بندوبست کے باوجود اسلامی طبقہ اپنے فکر کی پر امن تبلیغ بدستور جاری رکھ سکتا ہے جس کی موجودہ زمانہ میں اسے پوری آزادی حاصل ہے۔ ایسی حالت میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues