بے شعوری
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۶
بے شعوری
ایک مجلس میں میں نے پریگمیٹزم(pragmatism)کی (pragmatism) کی حمایت کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ نزاعی امورمیں پریگمیٹک طریقہ اختیار کیا جائے ۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان اس کو سن کر غصہ ہو گئے ۔ انھوں نے تیز لہجہ میں کہا : آپ خدا کے رسول کو بنتھم اورمیکیاولی کے برابر کر رہے ہیں۔ مذکورہ بزرگ کا یہ اعتراض صحیح نہ تھا۔ بنظم (Jeremy Bentham) کا نظریہ خالص نفحیت (utilitarianism) کا نظریہ ہے۔ یعنی وہ منفعت ہی کو اصل متقرر قرار دیتا ہے۔ اسی طرح میکیاولی کا نظریہ جس کو میکیا ولینیت (Machiavellianism) کہا جاتا ہے ، وہ گویا تمام اخلاقی اصولوں کو منسوخ کرکے سیاسی مفاد کو اصل قرار دینے کے ہم معنیٰ ہے۔ اس قسم کے نظریات بلا شبہ لغو بھی ہیں اور غیر اسلامی بھی۔
اس کے برعکس پریگمیٹک نقطہ نظر سے مراد سادہ طور پر عملی نقطہ نظر ہے۔ یعنی نزاعی معاملات میں جب فریق ثانی معیاری اصول کی روشنی میں تصفیہ کرنے پر راضی نہ ہو تو اس وقت عملی طور پر چونکن ہو اس پر رضامند ہو جانا۔ جیسے حدیبیہ کے عہد نامہ کی تحریر کے وقت قریش کے سردار " محمد رسول اللہ " لکھنے پر راضی نہ تھے۔ اس وقت آپ نے اس لفظ کو مٹا کر وہاں محمد بن عبد اللہ لکھوا دیا۔ اس قسم کی عملیت زندگی کا ایک عام اصول ہے جس کو ہر آدمی ہر روز اپنے ذاتی معاملات میں اختیار کرتا ہے۔ اس کے بغیر موجودہ دنیا میں زندگی کی گاڑی کا چلنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو الرسالہ کے صبر و اعتراض والے مضامین پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ لوگ اپنی نا واقفیت کی بنا پر بزدلی میں اور صبر میں فرق نہیں کر پاتے۔ بزدلی ایک پست ہمتی اور بے غیرتی کی روش ہے۔ جب کہ صبر ایک اعلیٰ ترین انسانی سرگرمی ہے۔ صبر یہ ہے کہ اپنے جذبات کو روک کر ہوشمندی اور منصوبہ کے تحت معاملہ کیا جائے۔ بزدلی بدترین بے عمل ہے اور صبر اعلیٰ ترین عمل۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غالباً کچھ لوگوں کی طرف سے اسی قسم کے تجربات ہوئے تھے جبکہ آپ نے فرمایا : الناس اعداء ما جهلوا۔ یعنی لوگ اس چیز کے دشمن ہو جاتے ہیں جس سے وہ نا واقف ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues