Al-Risala · October 1994 · page 17

سنت اللہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷

سنت اللہ

احد کی جنگ (۳ھ) میں مسلمانوں کو اپنے مخالفین کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ اس پر مخالفین نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ اللہ مسلمانوں کا ساتھی نہیں ہے، وہ ہمارے ساتھ ہے۔ قرآن میں اس کی تردید کی گئی اور مسلمانوں سے کہا گیا کہ ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران ۱۳۹)، اور یہ کہ اللہ تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (آل عمران ۱۵۰)

اس سلسلہ میں مزید کہا گیا کہ ہم منکروں کے دل میں تمہارا رعب ڈال دیں گے، کیونکہ انھوں نے ایسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جس کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے ظالموں کے لئے۔ اور اللہ نے (احد کے دن) تم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دکھایا تھا جب کہ تم ان کو اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب تم خود کمزور پڑ گئے اور تم نے معاملہ میں اختلاف کیا اور تم کہنے پر نہ چلے، جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھائی تھی جس کو تم چاہتے تھے۔ تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے بعض آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے، اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا۔ اور اللہ ایمان والوں کے حق میں بڑا فضل والا ہے (آل عمران ۵۳-۱۵۱)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت بتائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ بے شک اہلِ ایمان کی مدد کرتا ہے، اور اس کی مدد اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ اہلِ ایمان کو اپنے مخالفین کے مقابلہ میں فتح و کامیابی حاصل ہو۔ مگر موجودہ دنیا دار الامتحان ہے، اس لئے یہاں خود اہلِ ایمان کو بھی اپنا ایک حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اہلِ ایمان اپنے حصہ کا کردار ادا نہ کریں تو اللہ کی مدد آنے کے باوجود کامیابی نہ ہوگی، حتیٰ کہ جیتی ہوئی جنگ بھی ہار میں تبدیل ہو جائے گی، جیسا کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں احد کے موقع پر پیش آیا۔

اس دنیا میں شکست ہمیشہ اپنے حصہ کا کردار ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے، اور دوبارہ اپنے حصہ کا کردار ادا کر کے ہی شکست کو فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

الـرســـالـہ اکتوبر ۱۹۹۴

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page