Al-Risala · October 1994 · page 18

الـرســـالـہ اکتوبر ۱۹۹۴

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸

دعوت الی اللہ

ایک ہندوستانی عالم سعودی عرب گئے۔ وہ ایک دینی جماعت کے سربراہ ہیں۔ وہاں انھوں نے ایک انٹرویو دیا جو ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ کے شمارہ ۱۹ ذی القعدہ ۱۴۱۲ھ(۲۱مئی ۱۹۹۲ء) میں شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک سوال یہ ہے :

س۔ ما هي الانشطة التي تقوم بھاجمعیتکم في مجال الدعوة الى الله ؟

ج - من ابرز انشطة جمعيتنا في مجال الدعوة الاسلامية تنظيم المحاضرات والندوات والمؤتمرات الاسلامية لمناقشۃ وضع المسلمين في الهند. الدعوۃ کے نمائندہ (فہد المبارک) نے سوال کیا کہ وہ کون سی سرگرمیاں ہیں جو آپ کی جماعت دعوت الی اللہ کے میدان میں انجام دے رہی ہے۔ ہندوستانی عالم نے جواب میں کہا کہ دعوت اسلامی کے میدان میں ہماری جماعت کی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ نمایاں سرگرمی ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے بارہ میں لیکچروں اور سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد ہے۔

یہی موجودہ زمانہ کے علماء اور دانشوروں کا عام ذہن ہے۔ وہ مسلمانوں کے مسائل پر تقریر و تحریر کی سرگرمیاں دکھاتے ہیں اور اس کو دعوت الی اللہ کا کام سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس طرح کے کسی کام کا دعوت الی اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔

مسلمانوں کی اصلاح یا مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے کوشش کرنا بذات خود ایک مطلوب کام ہے۔ مگر اس کا صحیح نام اصلاح المسلمین ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔ دعوت الی اللہ اسلام میں اس کام کا عنوان ہے جو غیر مسلمین میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔

دعوت الی اللہ ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے جو غیر مسلموں کے تئیں اہل اسلام کے اوپرمقررکی گئی ہے۔ یہ کام سرتا پا صبر ، خیر خواہی ، حکمت اور موعظت حسنہ کے جذبہ کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ اس میں مدعو کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جاتا ہے۔ داعی کسی بھی حال میں مدعو سے کوئی قومی یا مادی نزاع نہیں چھیڑتا۔ یہ وہ کام ہے جس میں ضروری ہوتا ہے کہ داعی فریق ثانی کی اشتعال انگیزی پرمشتعل نہ ہو۔ وہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دے اور تعصب اور ظلم کے باوجود مدعو کے حق میں دعا کرتا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page