الـرســـالـہ اکتوبر ۱۹۹۴
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹
دو طریقے
اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے ، اور ناکامی کا واحد سبب بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو ناممکن کے حصول میں لگا دیا جائے۔ انسانوں کی کامیابی اور ناکامی کی پوری تاریخ انھیں دو اصولوں کی تفصیل و تشریح ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ متشددانہ طریق کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور پر امن طریق کار کامیابی کی طرف۔ متشددانہ طریق کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پر امن طریق کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جونزاعی معاملات میں صبر و تحمل کا ثبوت دے سکیں۔ امن کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کرسکے۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کیا ہونا چاہئے، اور کیا ہو سکتا ہے کے درمیان فرق نہیں کرپاتے۔ وہ اپنی شعوری ناپختگی کی وجہ سے اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ منزل کی طرف اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آخر میں انھیں معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف وقت ضائع کیا۔ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو آخری حد تک استعمال کرنے کے باوجود وہ کچھ بھی حاصل نہ کرسکے۔
انسان پیدائشی طور پر معیار پسند ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے ذہن میں ایک معیاری دنیا کا تصور با ہوا ہے۔ مگر دوسری ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ اس دار الامتحان میں کسی شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی معیاری دنیا کو حاصل کر سکے۔ عملی طور پر جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے پسندیدہ معیار سے کم کو لینے پر راضی ہوجائے۔ وہ کیا ہونا چاہئے کو چھوڑ کر کیا ہو سکتا ہے کو اپنا عملی نشانہ بنائے۔ جب آپ وہ چیز حاصل کرنا چاہیں جو ممکن نہیں ہے تو آپ کے اندر جھنجھلاہٹ اور تشدد پیدا ہوگا۔ لیکن جب آپ ممکن کو حاصل کرنے کے لئے اٹھیں تو آپ کے اندر یقین ہوگا۔ آپ کی جدوجہد پر امن دائرہ میں جاری ہوگی۔ پہلی صورت میں آپ کی پوری سوچ منفی سوچ بن جائے گی، اور دوسری صورت میں آپ کی سوچ مثبت سوچ بنے گی۔ اعلیٰ انسانی صفات آپ کے اندر پرورش پائیں گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues