Al-Risala · October 1994 · page 30

اقتباسات

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰

پروپیگنڈا پھیلایا اور مسلمانوں کو ملیچھ کا خطاب دیا۔ گائو کشی اور گوشت خوری کو اس کے لئے ذریعہ بنایا۔ ہندی عوام کی ذہنیت ہمیشہ سے تارکین دنیا کی پرستش کرنے والی واقع ہوئی ہے ، خصوصاً ہندو ذہنیت جس قدرسادھواورفقیرکی پرستش کرتی ہے وہ اظہر من الشمس ہے ، یہ ذہنیت بہت جلد شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک پھیل گئی۔ اور وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔ چونکہ اسلامی قوت سے ان کو مقابلہ کرنے میں، باوجود مساعی عظیمہ کامیابی نہیں ہوئی ، اس لئے اسی طریقہ پر ان کی جد وجہد محصور ہو گئی۔ بادشاہانِ اسلام نے اولاً اس طرف توجہ ہی نہیں دی ، بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت ہی سے مقابلہ کرتے رہے۔ مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اس طرف التفات ہوا۔ خصوصاً اکبر نے اس خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑ نا چاہا۔ اور اگر اس کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہو جاتے ، یا کم از کم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی ، اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے نہ صرف اشخاص پر قبضہ کیا تھا بلکہ عام ہندوذہنیت اورمنافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ مگر ادھر تو اکبر نے نفس دینِ اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بدظنی ہوئی۔ اگر چہ بہت سے بدظنی کرنے والے غافل اور نا سمجھ تھے۔ ادھر اپنی ناکامی کو دیکھ کر ، برہمنوں کے غیظ و غضب میں اشتعال پیدا ہوا ۔ ادھر یورپین قو میں خصوصاً انگلستان کو اپنے مقاصد میں کامیابی کا ذریعہ تلاش کرنا پڑا ، اور سب سے بڑا ذریعہ اس منافرت بین الاقوام تھا ، اس طرح ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان دوری بڑھتی چلی گئی۔

آپ کو معلوم ہے کہ صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے اور جس روز صلح حدیبیہ تمام و کمال کو پہنچی ہے اسی روز انا فتحنا لک فتحا مبینا کی آیت نازل ہوتی ہے، جس پر حضرت عمر تعجب کرتے ہوئے استفسار فرماتے ہیں: او فتح یا رسول الله ۔ آپس میں اختلاط کا ہونا ، نفرت میں کمی آنا ، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معاینہ کرنا ، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا ، یہی امور تھے جنھوں نے افلاذاکبادقریش کو کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینہ کو پہنچادیا۔ حضرت خالد بن ولید ، عمرو بن العاص وغیرہ رضی اللہ عنہم اس طرح حلقہ بگوشِ اسلام بن گئے کہ قریش کی ہستی فنا ہو گئی۔ الغرض اختلاط باعثِ عدم تنافر ہے ، اور وہ اقوام کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page