مولاناشبیر احمد عثمانی، دیوبند
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲
اور اللہ نے آپ کا سینہ سخت سے سخت ناخوشگوار واقعات پر تحمل کرنے کے لئے کھول دیا تھا۔ تا آنکہ یہ سورہ نازل ہوئی۔ اور خداوند قدوس نے اس صلح کا نام فتح مبین رکھا۔ لوگ اس پر تعجب کرتے تھے کہ یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے۔ فرمایا ہاں، بہت بڑی فتح ہے۔ اس صلح کے بعد کافروں اور مسلمانوں کو باہم اختلاط اور بے تکلف ملنے جلنے کا موقع ہاتھ آیا۔ کفار مسلمانوں کی زبان سے اسلام کی باتیں سنتے تو خود بخود ایک کشش اسلام کی طرف ہوتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے فتح مکہ تک، یعنی تقریباً دو سال کی مدت میں اتنی کثرت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے کہ کبھی اس قدر نہ ہوئے تھے۔ خالد بن الولید اور عمرو بن العاص جیسے نامور صحابہ اسی دوران میں اسلام کے حلقہ بگوش بنے۔ یہ جسموں کو نہیں، دلوں کو فتح کر لینا اسی صلح حدیبیہ کی عظیم ترین برکت تھی۔ اب جماعت اسلام چاروں طرف اس قدر پھیل گئی اور اتنی بڑھ گئی کہ مکہ کو فتح کرکے ہمیشہ کے لئے شرک کی گندگی سے پاک کر دینا بالکل سہل ہو گیا۔ حدیبیہ میں حضور کے ہمراہ صرف ڈیڑھ ہزار جانباز تھے۔ لیکن دو برس کے بعد مکہ کی فتح کے وقت دس ہزار کا لشکر آپ کے ہم رکاب تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ صرف فتح مکہ اور فتح خیبر، بلکہ آئندہ کی کل فتوحات اسلامیہ کے لئے صلح حدیبیہ بطور اساس و بنیاد اور زریں دیباچہ کی تھیں۔ اور اس تحمل و توکل کی بدولت جو صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں ظاہر ہوئی، جن علوم و معارف اور باطنی مقامات کا فتح باب ہوا ہوگا اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ (تفسیر قرآن، صفحه ۶۶۳) مورخ اسلام مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی حدیبیہ کے صلح نامہ کی تکمیل کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کیں، احرام کھولے اورحجامتیں بنوائیں۔ اس صلح نامہ یا عہد نامہ کے بعد قبیلہ خزاعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیف ہو گیا۔ اور قبیلہ بنو بکر قریش مکہ کا حلیف بن گیا۔ خزاعہ اور بنو بکر میں مدتوں سے عداوت چلی آ رہی تھی۔ یہ دونوں چوںکہ ایک ایک فریق کے حلیف بن گئے، لہٰذا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان امن و امان کے ساتھ رہنے کا عہد ہوا، اسی طرح ان دونوں میں بھی صلح قائم ہو گئی۔ جب آپ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لا رہے تھے تو راستہ میں سورہ فتح نازل ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اسی صلح کو جسے صحابہ کرام ایک قسم کی شکست سمجھ رہے تھے، فتح مبین قرار دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ صلح اسلام کے لئے فتح مبین ۳۲ الرسائل اکتوبر ۱۹۹۴
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues