Al-Risala · October 1994 · page 33

مولاناشبیر احمد عثمانی، دیوبند

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳

ہی تھی۔ صحابہ کرام اس کو شکست اس لئے سمجھ رہے تھے کہ بظاہر بعض شرائط میں اپنے آپ کو دبا ہوا اور کمزور پاتے تھے۔ لیکن بہت جلد بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کمزورشرائط ہی بے حد مفید شرائط تھیں۔ اسلام کے لئے سب سے بڑی فتح یہ تھی کہ جنگ و پیکار کا سلسلہ ختم ہو کر امن و امان اور اطمینان حاصل ہوا۔ اسلام جس قدر امن و امان کی حالت میں اپنا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، لڑائی اور جنگ و جدل کی حالت میں اس قدر نہیں پھیل سکتا تھا۔ اسلام کا اصل منشا یہی ہے کہ دنیا میں انسان امن و امان کی زندگی بسر کرے۔ اسلامی لڑائیاں لڑائیوں کے لئے نہیں تھیں بلکہ لڑائیوں کو مٹانے اور امن و امان قائم کرنے کے لئے تھیں ۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو برس کے عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد دگنی ہوگئی تھی۔ (تاریخ اسلام ، حصہ اول ، مکتبہ رحمت دیوبند ، صفحہ ۲۰۲۔ ۲۰۳ ) مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، لکھنؤ ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۲ء کو جے پور میں منعقدہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے گیارہویں اجلاس عام میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی خصوصی تقریر کا ایک اقتباس :

" میں یہ کہوں گا کہ آپ کی اور ہماری یہ زندگی ہوتی ، شریعت پر عمل کرتے تو آپ کو میں یقین دلاتا، شریعت کا طالب علم ہوں۔ کہ آج ہندستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہوتی اور اسلام قبول کرنے کے لئے ایک بہت بڑا داعیہ اور جذبہ پیدا ہوتا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حضورؐ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال مدینہ طیبہ میں لیکن امام زہری جو سید التابعین کہلاتے ہیں جو کہتے ہیں (ابھی اس کاذکربھی ہورہاتھا)صلح صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان دو سال گزرے ہوں گے۔ ان دو سال کی قلیل مدت میں جتنی بڑی تعداد میں عرب کے لوگوں نے جو اسلام قبول کیا ہے اتنی بڑی تعداد میں پورے مکہ مکرمہ کے تیرہ سال کی مدت کے درمیان اور . مدینہ طیبہ کے دس سال کی مدت میں قبول نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ عرب کے لوگوں کو اسلام کی عائلی زندگی کا، اخلاقی زندگی کا، عملی زندگی کا، باہمی سلوک کا مشاہدہ کرنے کی مہلت نہیں ملی تھی۔ ایک ایسی دیوار بیچ میں آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ مخالفت کی، مذہبی اختلافات کی جو دیکھنے نہیں دیتی تھی۔ اس میں کوئی ایسا جھروکہ . نہیں تھا جس سے وہ جھانک سکتے۔ لیکن جب حدیبیہ کی صلح ہوئی، صلح نامہ لکھ لیا گیا۔ اور یہ طے ہو گیا کہ کوئی جنگ نہیں ہوگی اور کوئی مسلمان غیرمسلم پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا اس عرصہ میں، میں،اورغیرمسلم مسلمان پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا تو جو لوگ ترستے تھے اپنے بھائیوں ، اپنے بھتیجوں کی، اپنے چا صاحبان کی صورت دیکھنے کو کہ جب سے مکہ معظمہ سے گئے ان کا مدینہ طیبہ آنا نہیں ہوا، ان کو موقع ملا اور وہ مدینہ طیبہ گئے۔ امام زہری کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے عزیزوں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page