ہار کو ماننا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۶
ہار کو ماننا
اپنی ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ آدمی پھر سے محنت کر کے اپنی کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنا چاہتا ہے۔ — ہار کے بعد ہار کو مان لینا دوبارہ جیت کی طرف سفر کرنے کا پہلا قدم ہے۔
اگر آپ ہارنے کے بعد اپنی ہار کو نہ مانیں تو آپ ہار کے بعد جہاں کھڑے ہوئے تھے، آپ بدستور وہیں کھڑے رہیں گے۔ آپ نے نئے سفر کا آغاز کرنے کے قابل نہیں بنیں گے۔ مگر جب آپ ہارنے کے بعد اپنی ہار مان لیں تو آپ کا سفر فوراً دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
ہار کو مان لینا اس بات کا اعتراف ہے کہ میں مقابلہ کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ اس کے برعکس ہار کو نہ ماننا گویا یہ کہنا ہے کہ میں مقابلہ کی دوڑ میں آگے ہوں۔ اب جو شخص واقعہ کے اعتبار سے پیچھے ہو وہ فرضی طور پر اپنے آپ کو آگے سمجھے تو وہ جھوٹے بھرم میں مبتلا رہے گا۔ اور جو لوگ جھوٹے بھرم میں مبتلا ہوں وہ اسباب کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
ہارنے کے بعد ہار کو مان لینا بہادری ہے۔ اور ہارنے کے بعد ہار کو نہ ماننا بزدلی۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرے۔ وہ اپنے آپ کو بزدلی کی سطح پر جانے نہ دے۔ اس دنیا میں کبھی ہار ہوتی ہے اور کبھی جیت۔ بلند انسان وہ ہے جو ہار جیت سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو ہار جیت سے اثر لئے بغیر اپنی رائے قائم کرے۔ جو لوگ اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں، وہی اس دنیا میں اپنے مقصد تک پہنچتے ہیں۔ جو لوگ اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ زندگی کے طوفان میں گھر کر رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ جو شخص ہار کو مان لے اس نے گویا ہار میں بھی جیت کاراز دریافت کر لیا۔ کیوں کہ وہ باہر کی دنیا میں وقتی طور پر ہار اگر وہ اپنے اندر کی ابدی دنیا میں بدستور فاتح رہا۔ اس نے اپنی عملی شکست کو اپنے ذہن کی شکست بننے نہیں دیا۔ جو آدمی ہار کو نہ مانے اس نے گویا اس معاملہ کو اپنے لئے وقار کا مسئلہ بنا لیا۔ اور جو آدمی اس طرح کسی معاملہ کو وقار کا مسئلہ بنالے وہ غلطی پر غلطی کرتا چلا جائے گا۔ وہ مسلسل ہارتا ہی چلا جائے گا، اس کے لئے دوبارہ جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues