ام الرسائل اکتوبر ۱۹۶۴ء
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳
کہ مسلمان رشوت نہیں لیتے ۔ نا جائز آمدنی کی طرف رخ نہیں کرتے۔ دکاندار پر غلط دکانداری کا الزام نہ لگ سکے ۔ مگر ہمارے پاس قرآنی اخلاق نہیں ہیں۔ ہم نے سیاسی اخلاق کو اپنا لیا ہے۔ پارٹی بازی ہمارا شیوہ ہو گیا ہے۔ ہم پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں مگر ہمارے اخلاق سے کوئی متاثر نہیں ہوتا۔
اصل بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس قیادت کا بھی مکمل فقدان ہے۔ خود ساختہ لیڈروں کا الگ الگ نظریہ ہے۔ ہمارے لیڈر سیاسی شہرت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور مذہبی رہنما مختلف نظریات کی دعوت دیتے ہیں اور سب ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہو سکتے اللہ کے پاس جوابدہی کا بہت کم خیال رکھتے ہیں۔ عوام بھی ان لیڈروں کے پیچھے بھاگتے ہیں جو طیش دلانے والی بات کریں۔ ٹکراؤ کی پالیسی کو اختیار کریں اور کوئی بھی جو سنجیدگی صلح وآشتی کی طرف رہنمائی کرے اس کو بزدل اور بکاؤ سمجھتے ہیں اور اس کی شخصیت کو تنازعہ قرار دیتے ہیں۔
یہ فرقہ واریت جس سے ہم کو سابقہ پڑ رہا ہے ایک سیاسی کھیل ہے۔ اس میں اصول اور اخلاق کا کوئی دخل نہیں۔ قتل غارتگری لوٹ مار سب جائز ہیں ۔ مگر اس کا عام زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک ہی محلہ میں سب مل کر رہتے ہیں، اسکولوں میں بچے مل جل کر پڑھتے ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ ہندو ڈاکٹر یا وکیل پر مسلمان اعتماد کرتے ہیں اور مسلمان ڈاکٹر یا وکیل پر ہندو۔ ہندوؤں کے پاس مسلمان نوکر ہیں اور مسلمانوں کے پاس ہندو ۔ کاروبار میں ایک دوسرے کے شریک ہیں۔ خرید و فروخت ایک دوسرے سے ہوتی ہے اور سب خوش و خرم ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
میری ساٹھ سالہ زندگی میں مجھے فرقہ واریت کہیں نہیں ملی۔ دفتر میں، بزنس میں، میرے پیشہ وکالت میں، چوں کہ ان پیشوں سے میں یکے بعد دیگرے وابستہ رہا ہوں ۔ ہر پیشہ میں مجھے غیر مسلم اصحاب سے ہمت افزائی ہوتی رہی ۔ ان سب ہمت افزائیوں کی تفصیل چوں کہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ طوالت کے خوف سے لکھنا نہیں چاہتا مگر چند واقعہ یہاں درج کر رہا ہوں۔
میرے والد صاحب جلال آباد شاہجہاں پور کے رہنے والے تھے اور بچپن ہی سے اپنا وطن چھوڑ کر حیدر آباد چلے آئے۔ ایک مرتبہ جب میں دہلی جا رہا تھا مجھ سے جلال آباد چلنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues