ام الرسائل اکتوبر ۱۹۶۴ء
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴
میری شریک حیات اورایک کمسن لڑکے کو لے کر ان کے ساتھ شاہجہاں پور پہنچا۔ وہاں سے جلال آباد جانے کے لئے ٹیکسی کرنی پڑتی تھی چنانچہ میں نے ٹیکسی لے لی۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد والد صاحب نے کہا کہ راستہ میں ایک گاؤں منڈ یا پڑتا ہے وہاں میرا ایک خالہ زاد بھائی نبی حسن رہتا تھا اس سے مل لیں گے۔ چنانچہ ٹیکسی کا رخ ادھر کر دیا گیا۔ جیسے ہی ٹیکسی ٹھہری دس بارہ لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ ان سے نبی حسن کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ پاکستان چلا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی میرادماغ چکراگیا۔ میرے میرے دماغ میں اخباروں کی سرخیاں گھومنے لگیں۔ جن سنگھ۔ پاکستانی مسلمان۔ فرقہ واریت۔ ہندو مسلم فسادات وغیرہ۔ میں کچھ دیر سکتے میں رہا۔ اس کے بعد میں نے ڈرائیور سے کہا کہ چلو ہم جلال آباد جائیں گے۔ مجمع میں سے ایک شخص نے کہا، کیا آپ جا رہے ہیں۔ نبی حسن نہیں رہا تو کیا ہوا ہم لوگ جو ہیں آپ ایسے نہیں جاسکتے، جلپان وغیرہ کر کے جائیں۔ ماحول کے لحاظ سے مجھے ان کی باتوں میں شبہ سا نظر آنے لگا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں جلدی میں ہوں مجھے جانے دیجئے۔ اب تو سب لوگ ایک آواز میں بول اٹھے کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔ میں اصرار کرتا رہا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے جب تک آپ مکھیاسے اجازت نہ لیں۔ مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اتنے میں ایک آواز آئی کہ مکھیاجی خودآرہے ہیں۔ وہ جب آئے تو مجمع کی بات سنی اور بولے یہ ناممکن ہے کہ آپ نبی حسن کے لئے آئیں اور ہم آپ کو جانے دیں۔ وہ ہمارے گاؤں کا رہنے والا تھا اور آپ اس کے عزیز ہیں۔ آپ یہاں رکیں اور بھوجن کر لیں۔ میں نے ان سے بہت عاجزی کی تو انھوں نے کہا کہ کم سے کم آپ جل پی کے جاسکتے ہیں۔ انھوں نے فوری جل لانے کے لئے کہا۔ چنانچہ کچھ ہی دیر میں ایک مٹی کی ٹھلیامیں مصری سونف ملا ہوا پانی آگیا۔ وہ پانی پی کر ہم ان کا شکریہ ادا کر کے چلے گئے۔ اور میں راستہ بھر سوچنے لگا کہ جن سنگھی کہاں ہیں۔ مسلم پارٹیاں کہاں ہیں۔ وہ فرقہ واریت اور فسادات کے بانی کہاں ہیں۔ وہ اخبارات کہاں ہیں جن میں فرقہ واریت کی سرخیاں لگتی تھیں وہ سب مجھ کو کوراکا غذ نظر آنے لگیں۔
ہماری ٹیکسی جلال آباد پہنچی دریافت کرنے پر والد صاحب کا آبائی مکان ملا جو ایک حویلی نما تھا۔ بوڑھے لوگوں نے بتا یا کہ وہاں کہیں ہاتھی جھومتے تھے۔ خیر ہماری کسی رشتہ دار سے ملاقات نہ ہوسکی ہم واپسی کا خیال کرنے لگے۔ شام ہو رہی تھی۔ ۔ اتفاقاًاس ٹیکسی کا مالک جلال آباد کا رہنے والا تھا۔ وہ ہندو تھا۔ پیشانی پر ایک بڑا سرخ تلک لگا ہوا تھا۔ وہ ہمارے قریب آیا اور بولا آپ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues