Al-Risala · October 1994 · page 46

ام الرسائل اکتوبر ۱۹۶۴ء

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶

سپریم کورٹ جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا وہ موجود ہو گیا۔ دو بجے جب میں باہر نکلا تو وہ کھڑا تھا۔ میرے دماغ میں اس کے تعلق سے کئی خیالات آنے لگے۔ غنڈہ، چور، لٹیرا۔ اس کی بھاری بھرکم شخصیت بھی اس کا ثبوت دے رہی تھی ۔ وہ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد بولا ۔ بابو جی میرا مکان راستہ میں پڑتا ہے آپ دو منٹ کے لئے میرے گھرپدھاریں تو میراپریوارخوش ہوجائے گا۔ اس کے اس جملہ میں عاجزی، انکساری اور خلوص نمایاں تھا۔ میں وقتی طور پر کچھ فیصلہ کر سکا۔ ہاں کہہ دیا۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنی ماں اور بیوی سے ملایا اس کا ایک چھوٹا سا لڑکا بھی تھا۔ اس کی والدہ نے چائے پینے کے لئے کہا اور اس کی بیوی فوراً باورچی خانہ میں چلی گئی۔ ایک تھالی میں روٹی لائی اور بولی یہ مولی کی روٹی ہے۔ ان کے خلوص کے سامنے نہ زہر بھی امرت میں بدل سکتا تھا۔ میں نے مولی کی روٹی اس سے قبل نہیں کھائی تھی۔ کچھ روٹی کھا لیا جو مجھے بہت پسند آئی۔ میں ان سے رخصت ہو کر چلا آیا۔ وہ مجھے دوسرے روز ایئر پورٹ چھوڑنے آیا۔ ہاتھ میں پیتل کا توشہ دان تھا۔ وہ بولا بابو جی ان میں مولی کی روٹیاں ہیں گھر لے جائیے۔ میرے انکار کے باوجود بڑے خلوص سے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے جب ٹیکسی کا کرایہ اسے دینے کے لئے پاکٹ کھولا تو اس نے کہابابوجی اس کی ضرورت نہیں.... میں نے اس کے خلوص اور محبت کو پیسوں میں تولنا نہیں چاہا، میں خاموش ہو گیا۔ اس سے رخصت ہو کر ایئر پورٹ کے اندر چلا گیا۔ دو ماہ بعد جب میں دہلی گیا تو اس کا توشہ دان واپس کرنے کے لئے کئی تحفہ تحائف لے کر اس کے مکان گیا۔ وہ نہیں تھا مگر اس کی بیوی اور ماں گھر میں تھے۔ اس کی ماں نے مجھے دیکھتے ہی اندر آنے کے لئے کہا اور بولی " بیٹا آپ نے کیا جادو کر دیا کہ میرے لڑکے نے آپ سے ملنے کے بعد شراب پینا چھوڑ دیا ہے"۔

جین دھرم کے ماننے والے ایک صاحب میرے دوست تھے۔ ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے اور لڑکیاں مجھ کو اپنا دھرم باپ مانتے ہیں۔ مجھے اتنا ہی محبت اور عزت دیتے ہیں جیسے باپ کو۔ اس تحریر سے دو ہفتہ قبل میرے ایک عزیز کا انتقال ہوا۔ تدفین کے وقت ہندوؤں اور مسلمانوں کا کثیر مجمع تھا۔ تھا۔ محلہ کے ہندوؤں نے احتراماً اپنی دکانیں بند کر دی تھیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہے کہ فرقہ واریت کا کہیں وجود نہیں ہے۔ اکثر اخباروں میں یہ خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جین کسی مقام پر فساد ہوتا ہے تو محلہ والے ایک دوسرے کو پناہ دیتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1994 All issues

Printed page