Al-Risala · November 1994 · page 9

صفحہ عبرت

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۹

یہ اس دور کی بات ہے جو پانچ سو سال پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت عربی زبان کا وہی مقام تھا جو آج انگریزی زبان کا مقام ہے۔ اس وقت عربوں کو وہی درجہ حاصل تھا جو آج اہل مغرب کو حاصل ہے۔ اس وقت عالمی واقعات کی کنجی مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی جس طرح آج وہ غیر مسلموں کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔

یہ تبدیلی کسی سازش کی بنا پر پیش نہیں آئی۔ بلکہ تمام تر فطرت کے قانون کے تحت پیش آئی۔ اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون یہ ہے کہ جس کو جو کچھ ملے گا استعدادی بنا پر ملے گا اور جس سے جو کچھ چھنے گا بے استعدادی بنا پر چھن جائے گا۔ اس دنیا میں جو لوگ محروم رہ جائیں انھیں دوسروں کی سازش یا تعدی کا انکشاف کرنے کے بجائے اپنی بے استعداد کی کو ختم کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اگر وہ کچھ پائیں گے تو اپنی بے استعداد کی کو ختم کر کے ہی پائیں گے۔ شکایت اور احتجاج کی بنیاد پر یہاں انھیں کچھ ملنے والا نہیں۔

موجودہ دنیا کو اس کے پیدا کرنے والے نے کسی خاص نسل یا کسی خاص گروہ کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ بلکہ تمام انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہاں کسی ایک انسان کاجوحق ہے وہی دوسرے تمام انسانوں کا حق بھی ہے۔ یہاں کوئی چیز صرف وہ لوگ پاتے ہیں جو فی الواقع اس کے حق دار ہوں۔

حق دار کون ہے ۔ قرآن کے مطابق حق دار وہ ہے جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہو۔ قرآن میں فطرت کا ایک مستقل اصول یہ بتایا گیا ہے کہ جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے (واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض) :

and that which is for the good of mankind remains on the earth یہی اس دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ابدی قانون ہے۔ یہاں قیام و استحکام صرف اس کو ملتا ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو دوسروں کے لیے مفید ثابت ہو۔ کسی قوم کی زبان ہو یا اس کی حکومت، کسی قوم کا کلچر ہو یا اس کی اقتصادیات، کسی بھی چیز کو صرف اس وقت تک زمین کے اوپر برتری اور بالا دستی حاصل ہوگی جب کہ اس میں دوسروں کو نفع پہنچانے کی صلاحیت ہو، نفع بخشی کی صلاحیت کھوتے ہی وہ اپنا غالب مقام بھی کھو دے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page