Al-Risala · November 1994 · page 11

صفحہ عبرت

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱

کتابوں کے علاوہ بازار سے ضخیم فیروز اللغات بھی خرید لی ہے تاکہ اردو سیکھنے میں وہ ان کے لیے معاون ہو سکے۔

اس تعلیم کا مزید اثر یہ ہوا ہے کہ اہلو والیا فیملی میں " اردو تہذیب " آنا شروع ہوگئی ہے۔ وہ لوگ گفتگو میں ان شاء اللہ، ماشاء اللہ، خدا حافظ جیسے الفاظ کو استعمال کرنے لگے ہیں۔

مسٹر اہلو والیہ ہر طرح مولانا شکیل احمد قاسمی کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مثلاً مسٹر اہلو والیہ ایک ہندو علاقے میں رہتے ہیں۔ چنانچہ مولانا قاسمی جب ان کے یہاں سے پڑھا کر نکلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو ان کے ساتھ دور تک بھیجتے ہیں تاکہ لوگ انہیں اجنبی محسوس نہ کریں۔

یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ کیا ہے۔ موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ " ہندو فرقہ واریت " نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ہندو مسلم دوری ہے۔ اگر ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی بھی ذریعہ سے ملنا جلنا شروع ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔

دوری غلط فہمی پیدا کرتی ہے اور قربت سے دوستی پیدا ہوتی ہے۔ عام تجربہ ہے کہ جہاں ہندوئوں اور مسلمانوں میں دوری آئی وہاں ساتھ ساتھ غلط فہمیاں بھی آگئیں۔ اور جہاں میل ملاپ بڑھا وہاں اپنے آپ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات قائم ہو گئے۔

۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا، اس وقت زراعتی زندگی کے تحت فطری طور پر ہندوئوں اور مسلمانوں میں بار بار ملنے کی صورتیں پیدا ہوتی تھیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں صنعتی دور آ گیا ۔ صنعتی دور کے تقاضے کے تحت خاندان منتشر ہو گئے۔ لوگ ادھر اُدھر جانے لگے۔ اس طرح مشترک زندگی کا نظام ٹوٹ گیا۔ پچھلے تعلقات باقی نہیں رہے۔ موجودہ زمانہ میں دونوں فرقوں میں دوری کا بڑا سبب یہی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیمی اداروں میں جائیں۔ جدید اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ کر حصہ لیں۔ نیز اس انداز کے کام بھی کریں جس کی ایک مثال مولانا شکیل احمد قاسمی کا مذکورہ واقعہ ہے۔ اس کے بعد انشاء اللہ دوبارہ میل ملاپ کا سابقہ دور واپس آجائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page