سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷
سنتِ اجتہاد
رسول کا زمانہ ، صحابہ کا زمانہ اور تابعین کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں معیاری زمانہ ہے۔ اس کو پیغمبر کی حدیث کی بنا پر قرون مشہود لہا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گویا اسلام کا دور اول ہے۔ اسی دور اول کی روشنی میں بعد کے زمانوں کو جانچا جائے گا، نہ کہ بعد کے زمانہ کی روشنی میں دورِ اول کو جانچا جانے لگے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں بجا طور پر لکھا ہے کہ دور اول میں اسلامی فقہ موجودہ فنی صورت میں پائی نہیں جاتی تھی اور نہ اس کی باقاعدہ تدوین ہوئی تھی۔ مدون فقہ کا آغاز خلافت عباسیہ کے زمانہ میں ہوا۔ دور اول کی فقہ سادہ اور فطری اسلوب پر تھی ۔ بعد کے زمانہ میں اس میں تعمق اور تقصی اور تقسیم کا اضافہ ہوا۔ اس طرح فطری فقہ نے ایک فنی فقہ کی صورت اختیار کرلی۔
فنی فقہ کو سمجھنے کے لئے ایک سادہ مثال لیجئے ۔ ایک شخص نے ایک مفتی سے طلاق کے بارہ میں سوال کیا۔ سوال یہ تھا کہ فریقین کے درمیان اگر مسلک کا اختلاف ہو، یعنی ایک حنفی ہے اور دوسرا غیر حنفی، ایسی صورت میں قاضی کیا فیصلہ کرے گا اور اس کا فیصلہ کس طرح ان کے اوپر نافذ ہوگا۔ مفتی نے جواب دیا۔ دیا___امورمجتہد فیہامیں فقہاء نے قاضی کے فیصلہ کو رافع خلاف قرار دیا ہے۔
یہ کسی سوال کے جواب کا فنی انداز ہے۔ یہ انداز بعد کے زمانہ میں رائج ہوا۔ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں جواب کے لئے اس انداز کارواج نہ تھا۔ اس مخصوص اسلوب کو اگر علم فقہ کالازمی جزو سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد ہی ہوگا کہ اگر اس فنی اسلوب میں کمال رکھنے والے لوگ موجود نہ ہوں تو کہنے والے کہیں گے کہ فقہی غور و فکر کا دروازہ بند کر دو، کیوں کہ اب اس کے اہل افراد دنیا میں پائے نہیں جاتے۔
اس تفنین نے فطری دین میں غیر فطری مسائل پیدا کر دئے۔ مثلاً ایک مسئلہ یہ تھا کہ شریعت میں استدلال کی بنیاد کیا ہو۔ اس میں فنی خوض کرکے فقہاء نے چار اصول وضع کئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues