Al-Risala · November 1994 · page 18

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸

عبارت النص، دلالة النص ، اشارة النص، اقتضاء النص مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تدقیق ہے۔ اس چار کو ہم سادہ طور صرف دو میں بیان کر سکتے ہیں۔ یعنی منصوص استدلال اور استنباطی استدلال جو استدلال براہ راست کسی نص صریح پر مبنی ہو ، وہ منصوص استدلال ہے۔ اور جو استدلال کسی نص سے مستنبط کیا جائے وہ استنباطی استدلال۔ اجتہاد کے معاملہ میں بھی اسی طرح کی تدقیق کر کے اس کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی مصنوعی پیچیدگی نے چوتھی صدی ہجری میں یہ ذہن پیدا کیا کہ اب ہمیشہ کے لئے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ اجتہادی صلاحیت کے لوگ دنیا میں باقی نہیں رہے۔ حالاں کہ اجتہاد کو اگر اس کے فطری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا دروازہ بند ہونے کی بات بالکل بے معنی نظر آئے گی۔ کیوں کہ اجتہاد محض ایک شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ضرورت حیات ہے۔ اجتہاد در اصل استنباط ہی کی اعلیٰ صورت ہے۔ اور استنباط ایک ایسی انسانی ضرورت ہے جس سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی معاملہ میں مفر ممکن نہیں۔

قدیم زمانہ میں اقتصادی معاملات (commercial transactions) کے لئے سونے اور چاندی کے سکے کا رواج تھا جن کا نقل و حمل سخت مشکل تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں کاغذی نوٹ کا عمومی استعمال شروع ہوا جس نے اس مسئلہ کو نہایت آسان بنا دیا۔ اس وقت دہلی میں مولانا عبدالحق حقانی موجود تھے۔ کسی آدمی نے مولانا سے فتویٰ پوچھا کہ نوٹ کا استعمال جائز ہے یا نا جائز ۔ مولانا نے جواب دیا : میرا فتویٰ نہیں چلے گا۔ مگر نوٹ چل جائے گا ۔ یہ واقعہ بتاتاہے کہ اجتہاد کس طرح ایک ضرورت حیات ہے۔ اور جو چیز ضرورت حیات کی حیثیت رکھتی ہو وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک خود حیات باقی ہے ۔ نہ اس کا دروازہ بند ہونے کا سوال ہے اور نہ اس کی گنجی گم ہونے کا۔

اجتہاد کا لفظ جہد سے بنا ہے۔ جہد کے معنی کوشش کے ہیں اور اجتہاد کے معنی زیادہ کوشش کے ہیں۔ اجتہد فی الامر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے فلاں معاملہ میں انتہائی کوشش کی۔ اس میں اس نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کر ڈالی۔ شریعت کے مسائل میں جب اجتہاد کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے، اپنی پوری کوشش صرف کر کے متعلقہ معاملہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page